صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 559
صحيح البخاري - جلد ) ۵۵۹ - كتاب الصلوة بَاب ۷۳ : تَحْرِيمُ تِجَارَةِ الْخَمْرِ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں شراب کی تجارت کا حرام کیا جانا ٤٥٩: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ :۴۵۹ ہم سے عبدان نے بیان کیا۔ انہوں نے عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَّسْرُوقِ ابو حمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے مسلم عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ سے، مسلم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت مِنْ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا خَرَجَ النَّبِيُّ عائشہ سے روایت کی ۔ وہ کہتی تھیں کہ جب سود کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ متعلق سورة بقرہ کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی فَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَرَّمَ تِجَارَةَ مسجد میں باہر آئے اور لوگوں کے سامنے وہ آیتیں الْخَمْرِ۔ پڑھیں۔ پھر آپ نے شراب کی تجارت حرام کی ۔ اطرافه: ٢٠٨٤، ٢٢٢٦ ، ٤٥٤٠، ٤٥٤١، ٤٥٤٢ ، ٤٥٤٣۔ جن آیات کا نا روایت ۴۵۹ میں حوالہ دیا گیا ہے اُن میں تجارت کی حلت اور سود کی حرمت کا ذکر ہے: وَأَحَلَّ تشر الله البي ام الربوا الا ان آیات نازل ہونے سے پہلے عرب کی حرمت کے متعلق و۔ حکم نازل ہو چکا تھا۔ مگر اس کی تجارت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اعلان نہیں فرمایا تھا۔ اب جبکہ ان آیات میں شراب کا کہیں ذکر نہیں اور تجارت بظاہر بغیر قید و شرط کے جائز قرار دی گئی ہے۔ مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس وجہ سے کہ شراب حرام ہے اس کی تجارت بھی حرام کر دی ۔ حالانکہ اَحَلَّ اللهُ البَيْعَ میں تجارت کی مطلق اجازت دی گئی ہے۔ یہ دو واقعے پہلو بہ پہلو رکھ کر امام بخاری نے جہاں دو ایسے مسئلوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن کا تعلق آداب مسجد کے ساتھ ہے وہاں اس اصولی بات کی مزید مثالیں دی ہیں جس کا ذکر ابھی گزر چکا ہے۔ بعض وقت کسی نسبت سے کوئی حقیرشی جیسے جھاڑو دینے کی خدمت قابل عزت ہو جاتی ہے اور جائز چیز حرام ہو جاتی ہے۔ بَاب ٧٤ : الْخَدَمُ لِلْمَسْجِدِ مسجد کے لئے خادم وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي اور حضرت ابن عباس نے آیت نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي مُحَرَّرًا (آل عمران : ٣٦) لِلْمَسْجِدِ يَخْدُمُهُ۔ بَطْنِي مُحَرَّرا کے یہ معنی کئے ہیں کہ جو میرے پیٹ میں ہے میں نے اسے تیری نذر کر دیا ہے۔ وہ تمام دھندوں سے آزاد ہو گا یعنی مسجد کے لیے۔ اُس کی خدمت کرے گا۔