صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 558 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 558

البخاري - جلد ) ۵۵۸ ٨- كتاب الصلوة ماتحت تھا۔اسی طرح ایک وقت خاص حالت میں اشعار کا پڑھنا مسجد کی حرمت کے خلاف نہ تھا اور دوسرے حالات میں یہ امر بعض اعتبارات کے لحاظ سے خلاف حرمت سمجھا گیا۔پس مذکورہ بالا مسائل کے متعلق امام بخاری نے بابوں کی ترتیب میں جو اصل پیش کیا ہے وہ ان مسائل کے حل کرنے کے لئے ایک بہترین اقلید ہے۔بَاب ۷۲: كَنْسُ الْمَسْجِدِ وَالْتِقَاطُ الْخِرَقِ وَالْقَدَى وَالْعِيْدَانِ مسجد میں جھاڑو دینا اور اُس میں سے دھجیاں اور کوڑا کرکٹ اور لکڑیاں اُٹھانا ٤٥٨: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ ۴۵۸: ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتِ حماد بن زید نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ثابت سے، عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا ثابت نے ابو رافع سے، ابورافع نے حضرت ابو ہریرۃ أَسْوَدَ أَوِ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَ يَقُم سے روایت کی کہ ایک کالا آدمی مسجد میں جھاڑو دیا کرتا الْمَسْجِدَ فَمَاتَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى تھا۔یا کہا کالی عورت۔پس وہ مر گیا۔نبی صلی اللہ علیہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالُوْا مَاتَ قَالَ وَسلم نے اُس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ مرگیا أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُوْنِي بِهِ دُلُّونِي عَلَى ہے۔آپ نے فرمایا: پھر کیا تم نے مجھے اس کی اطلاع نہ دینی تھی۔مجھے اس مرد کی قبر کا پتہ دو یا فرمایا اس عورت کی قبر کا پتہ دو۔آپ اس کی قبر پر آئے اور اس کا جنازہ پڑھا۔قَبْرِهِ أَوْ قَالَ قَبْرِهَا فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ۔اطرا رافه: ٤٦٠ ١٣٣٧ - تشریح: جس خادمہ مسجد کا ذکر روایت نمبر ۴۵۸ میں ہے اس کے متعلق ایک روایت میں آتا ہے: كَانَتْ تَلْتَقِط الْخِرَقَ وَالْعَيْدَانَ مِنَ الْمَسْجِد { کہ وہ مسجد سے کپڑوں کے دھجیاں اور لکڑیاں اُٹھایا کرتی تھی۔اور ایک روایت میں آتا ہے: كَانَتْ مَولَعَةً بِلَقُطِ الْقَدَى مِنَ الْمَسْجِدِ۔یعنی دھجیاں اور گندی مندی چیزیں وغیرہ ہٹایا کرتی تھی ہو (فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۱۵) اس لئے عنوانِ باب میں تَكَنُسُ الْمَسْجِدِ کے بعد الْخِرَقُ وَالْقَدَى وَالْعِیدَانِ کا ذکر کر کے امام موصوف نے ان روایتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔مسجد کی صفائی کے متعلق جو اہتمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوتھا اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔یہاں خادمہ مسجد کی وفات کا ذکر کر کے بتلایا کہ آپ کو اس وجہ سے کہ وہ مسجد کی صفائی کا خاص خیال رکھا کرتی تھی اس کا جنازہ نہ پڑھنے سے رنج پیدا ہوا۔کتاب الجنائز میں یہی روایت دہرائی گئی ہے۔اس میں آتا ہے: فَحَقَرُوا شَأْنہ یعنی صحابہ نے اس کو حقیر سمجھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے جنازے کے لئے بے وقت تکلیف دینا پسند نہ کیا۔مگر آپ نے اسے ناپسند فرمایا۔(دیکھئے باب الصلاة على القبر بعد ما يدفن نمبر ۱۳۳۷)