صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 557
البخارى- جلد ) ۵۵۷ ٨- كتاب الصلوة سعید انصاری سے روایت کرتے ہیں اور ان میں سے جعفر بن عون کی روایت میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ راوی نے عمرہ سے یہ روایت سنی اور عمرہ نے حضرت عائشہ سے سنی۔خلاصہ یہ کہ روایت مذکورہ بالا مرسل نہیں بلکہ موصول ہے۔چونکہ بعض روایتوں میں منبر کا لفظ نہیں اس لئے عنوانِ باب کی مطابقت کی وجہ سے سفیان بن عیینہ کی روایت کو اس باب کے لئے منتخب کر کے آخر میں اس امر کی بھی تصریح کردی ہے کہ امام مالک اور یحیی بن سعید قطان کی روایت میں منبر پر چڑھنے کا ذکر نہیں۔باب ۷۱: التَّقَاضِي وَ الْمُلَازَمَةُ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں ایک دوسرے سے قرض کا تقاضا کرنا اور چمٹ جانا ٤٥٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۵۷ : ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: عثمان قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے ہمیں بتلایا۔يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن انہوں نے زہری سے، زہری نے عبد اللہ بن کعب كَعْبِ بْنِ مَالِكِ عَنْ كَعْبٍ أَنَّهُ تَقَاضَى بن مالک سے، انہوں نے حضرت کعب سے روایت کی کہ اُنہوں نے حضرت ابن ابی حدرد سے مسجد میں قرض کا تقاضا کیا جو ان کا اُن کے ذمہ تھا۔ان دونوں ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى کی آوازمیں اتنی بلند ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سَمِعَهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم نے سن لیں۔حالانکہ آپ اپنے گھر تھے۔اس پر وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى آپ ان کی طرف نکلے اور اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ فَنَادَى يَا كَعْبُ پکارا - کعب ! عرض کیا: حاضر یا رسول اللہ ! فرمایا: اپنے قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعْ مِنْ اس قرض سے کچھ کم کر دو اور آپ نے ان کو اشارہ کیا دَيْنِكَ هَذَا وَأَوْمَا إِلَيْهِ أَي الشَّطْرَ قَالَ يعني نصف۔حضرت کعب نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے کم کر دیا۔آپ نے (حضرت ابن ابی حدرو کو ) لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ قُمْ فَاقْضِهِ۔فرمایا: اُٹھو اور اسے( قرضہ ) ادا کرو۔اطرافه: ٤۷۱، ٢٤١٨، ٢٤٢٤، ٢٧٠٦، ٢٧١٠۔تشریح: باب ۷۰ د باب اے میں جن دو واقعوں کا ذکر ہے ان کا تعلق لین دین کے ساتھ ہے۔ان دونوں میں نبی نے ایسے طور سے دخل دیا ہے جو ایک واعظانہ رنگ رکھتا ہے۔پس مقام کی نوعیت نے مسئلہ کی نوعیت میں تبدیلی پیدا کر دی ہے اور جو باتیں عام طور پر مسجد کی حرمت کے خلاف سمجھی جاتی تھیں وہ ایک خاص حالت میں جائز ہو گئیں ( نیز دیکھئے شرح باب ۸۱) حضرت عثمان کا مسجد کو وسیع کرنا اور اس کو عمدہ اور پختہ بنانا بھی ایک ضرورت حقہ کے