صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 557 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 557

صحيح البخاري - جلد ) ۵۵۷ - كتاب الصلوة سعید انصاری سے روایت کرتے ہیں اور ان میں سے جعفر بن عون کی روایت میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ راوی نے عمرہ سے یہ روایت سنی اور عمرہ نے حضرت عائشہ سے سنی۔ خلاصہ یہ کہ روایت مذکورہ بالا مرسل نہیں بلکہ موصول ہے۔ چونکہ بعض روایتوں میں منبر کا لفظ نہیں اس لئے عنوانِ باب کی مطابقت کی وجہ سے سفیان بن عیینہ کی روایت کو اس باب کے لئے منتخب کر کے آخر میں اس امر کی بھی تصریح کردی ہے کہ امام مالک اور یحیی بن سعید قطان کی روایت میں منبر پر چڑھنے کا ذکر نہیں۔ باب ۷۱ : التَّقَاضِي وَ الْمُلَازَمَةُ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں ایک دوسرے سے قرض کا تقاضا کرنا اور چمٹ جانا ٤٥٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۵۷ : ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: عثمان قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے ہمیں بتلایا۔ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ انہوں نے زہری سے، زہری نے عبداللہ بن کعب كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ كَعْبٍ أَنَّهُ تَقَاضَی بن مالک سے، انہوں نے دو سے، انہوں نے حضرت کعب سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن ابی حدرد سے مسجد میں ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي قرض کا تقاضا کیا جو ان کا اُن کے ذمہ تھا۔ ان دونوں الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سَمِعَهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم نے سن لیں۔ حالانکہ آپ اپنے گھر تھے۔ اس پر وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى آپ ان کی طرف نکلے اور اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ فَنَادَى يَا كَعْبُ پکارا - کعب ! عرض کیا: حاضر یا رسول اللہ ! فرمایا: اپنے قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعْ مِنْ اس قرض سے کچھ کم کر دو اور آپؐ نے ان کو اشارہ کیا دَيْنِكَ هَذَا وَأَوْمَا إِلَيْهِ أَي الشَّطْرَ قَالَ يعنی نصف ۔ حضرت کعب نے کہا: یا رسول اللہ ! میں لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُمْ فَاقْضِهِ۔ نے کم کر دیا۔ آپ نے (حضرت ابن ابی حدرد کو ) فرمایا: اُٹھو اور اسے (قرضہ ) ادا کرو۔ اطرافه ٤٧١ ، ٢٤١٨، ٢٤٢٤، ٢٧٠٦، ٢٧١٠۔ تشریح بیان کے باب سے میں جن دو واقعوں کا ذکر ہےان کا حق لین دین کے ساتھ ہے۔ ان دونوں میں نبی تعلق صلى الله علی نے ایسے طور سے دخل دیا ہے جو ایک واع واعظانہ رنگ رکھتا ہے۔ پس مقام کی نوعیت نے مسئلہ کی نوعیت میں تبدیلی پیدا کر دی ہے اور جو باتیں عام طور پر مسجد کی حرمت کے خلاف سمجھی جاتی تھیں وہ ایک خاص حالت میں جائز ہو گئیں ( نیز دیکھئے شرح باب (۸) حضرت عثمان کا مسجد کو وسیع کرنا اور اس کو عمدہ اور پختہ بنانا بھی ایک ضرورت حقہ کے