صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 556 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 556

صحيح البخاري - جلد ) ۵۵۶ - كتاب الصلوة اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَّيْسَ فِي كِتَابِ چڑھے اور فرمایا: اُن لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَ إِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شرطیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں اور جو شخص ایسی شرط کرتا ہے جو اللہ کی کتاب میں نہیں تو وہ شرط اس کے لیے نہیں ہوتی گو وہ سو بار شرط کرے۔ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ يَحْيَى وَعَبْدُ الْوَهَّابِ علی بن عبد اللہ ) نے کہا: یحی ( بن سعید قطان ) اور عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ۔ وَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عبد الوہاب نے بھی ( بن سعید انصاری) سے، انہوں عَوْنٍ عَنْ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَةَ نے عمرہ سے (اسی طرح روایت کی ) اور جعفر بن عون نے کی ( بن سعید انصاری) سے روایت کرتے ہوئے قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ۔ کہا کہ انہوں نے کہا: میں نے عمرہ سے سنا۔ وہ کہتی تھیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے سنا۔ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ اور مالک نے کی سے، بچی نے عمرہ سے یوں روایت کی أَنَّ بَرِيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ صَعِدَ الْمِنْبَرَ که حضرت بریرہا اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا: صَعِدَ الْمِنْبَرَ " کہ وہ منبر پر چڑھے۔ اطرافه: ١٤٩٣، ٢١٥٥، ٢٥٣٦ ، ٢٥٦٠ ، ٢٥٦١ ، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ٢٥٦٥ ، ٢٥٧٨، ،٥٢، ٥٢٨٤ ، ٥٤٣٠، ٦٧١٧۷۹ ،۵۰۹۷ ،۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲۶ ،۲۷۱۷ ٦٧٥١، ٦٧٥٤ ، ٦٧٥٨ ٦٧٦٠ صلى الله شارع - اسلام علی نے مسجد میں خرید و فروخت کرنا منع فرمایا ہے۔ مگر ایک موقع پر آپ نے منبر پر چڑھ کر تشر : ا ا ا ا ا ر فرمایا جس میں غیر سری بار قرار دے کر کو برقرار کی اور آپ کا ایمیل خر اس ممانعت کے خلاف نہیں۔ سروعہ میں : نا رھی کتابت اس کو کہتے ہیں کہ غلام یا لونڈی اپنی قیمت ٹھہرا کر آزادی حاصل کرلے۔ وہ قیمت یک مشت ادا کرے یا کما کر بعد میں باقساط دے۔ ایسے شخص کو مکا تب کہتے ہیں۔ حضرت بریرہ د بریرہا بھی مکاتب تھیں۔ حضرت عائشہ نے ان کی قیمت دے کر ان کو آزاد کرالیا تھا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب العتق باب ۲۲-۲۵) روایت ۴۵۶ کے آخر میں مذکورہ بالا سندوں کا حوالہ دو (۴) وجہ سے دیا گیا ہے۔ اوا وجہ سے دیا گیا ہے۔ اول یہ کہ بعض روایتوں میں یحییٰ بن سعید انصاری کا عمرہ سے اور عمرہ کا حضرت عائشہ سے براہ راست سننا ثابت نہیں۔ جب کوئی شخص کسی سے سن کر کسی کی روایت بیان کرے تو امام موصوف عَنْ کا لفظ استعمال کریں گے۔ عَنْ عَمْرَةَ سے مراد ہے کہ عمرہ سے مروی ہے۔ اس لئے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ روایت کرنے والے نے یہ بات عمرہ سے خود سنی۔ ایسی روایتوں کو جن کا سلسلہ سماعت صحابہ کرام سے براہ راست ثابت نہ ہو مرسل کہتے ہیں اور جس روایت کا سلسلہ سماعت صحابہ کرام تک ثابت ہوا سے موصول کہتے ہیں۔ علی بن عبد اللہ نے امام موصوف کو مذکورہ بالا حدیث چار شخصوں ۔ ابالا حدیث چار شخصوں سے روایت کرتے ہوئے بتلائی ہے جو سب یحیی بن