صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 556 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 556

البخاري - جلد ) ٨- كتاب الصلوة اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَّيْسَ فِي كِتَابِ چڑھے اور فرمایا: اُن لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَ إِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شرطیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں اور جو شخص ایسی شرط کرتا ہے جو اللہ کی کتاب میں نہیں تو وہ شرط اس کے لیے نہیں ہوتی گووہ سو بار شرط کرے۔قَالَ عَلِيٌّ قَالَ يَحْيَى وَعَبْدُ الْوَهَّابِ على ( بن عبداللہ ) نے کہا: یحی بن سعید قطان ) اور عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ۔وَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عبد الوہاب نے کئی ( بن سعید انصاری) سے، انہوں یحی۔عَوْنٍ عَنْ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَةَ نے عمرہ سے (اسی طرح روایت کی ) اور جعفر بن عون نے سجي ( بن سعید انصاری) سے روایت کرتے ہوئے قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ۔کہا کہ انہوں نے کہا: میں نے عمرہ سے سنا۔وہ کہتی تھیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے سنا۔رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ اور مالک نے کیا سے بچی نے عمرہ سے یوں روایت کی أَنَّ بَرِيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ صَعِدَ الْمِنْبَرَ که حضرت بریرہ۔۔۔۔اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا: صَعِدَ الْمِنْبَرَ" کہ وہ منبر پر چڑھے۔اطرافه ۱٤٩٣، ۲۱۰۰، ٢٥٣٦، ٢٥٦٠، ٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ٢٥٦٥، ٢٥٧٨، تشریح: ،٦۷۱۷ ،٥٤۳۰ ،۵۲۸۰ ،۵۲۷۹ ،۵۰۹۷ ،۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲٢٧١٧، ٧٢٦ ٦٧٥١، ٦٧٥٤، ٠٦٧٦٠٦٧٥٨ شارع اسلام ﷺ نے مسجد میں خرید وفروخت کرنا منع فرمایا ہے۔مگر ایک موقع پر آپ نے منبر پر چڑھ کر ایک خرید کا ذکر فرمایا جس میں غیر مشروع شرطیں ناجائز قرار دے کر اصل بیع برقرار رکھی اور آپ کا یہ عمل اس ممانعت کے خلاف نہیں۔کتابت اس کو کہتے ہیں کہ غلام یا لونڈی اپنی قیمت ٹھہرا کر آزادی حاصل کر لے۔وہ قیمت یک مشت ادا کرے یا کما کر بعد میں باقساط دے۔ایسے شخص کو مکاتب کہتے ہیں۔حضرت بریرا بھی مکاتب تھیں۔حضرت عائشہ نے ان کی قیمت دے کر ان کو آزاد کرالیا تھا۔(تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب العتق باب ۲۲-۲۵) روایت ۶ ۴۵ کے آخر میں مذکورہ بالا سندوں کا حوالہ دو (۴) وجہ سے دیا گیا ہے۔اول یہ کہ بعض روایتوں میں بیٹی بن سعید انصاری کا عمرہ سے اور عمرہ کا حضرت عائشہ سے براہ راست سننا ثابت نہیں۔جب کوئی شخص کسی سے سن کر کسی کی روایت بیان کرے تو امام موصوف عَنْ کا لفظ استعمال کریں گے۔عَنْ عَمْرَةَ سے مراد ہے کہ عمرہ سے مروی ہے۔اس لئے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ روایت کرنے والے نے یہ بات عمرہ سے خودسنی۔ایسی روایتوں کو جن کا سلسلہ سماعت صحابہ کرام سے براہ راست ثابت نہ ہو مرسل کہتے ہیں اور جس روایت کا سلسلہ سماعت صحابہ کرام تک ثابت ہوا سے موصول کہتے ہیں۔علی بن عبد اللہ نے امام موصوف کو مذکورہ بالا حدیث چار شخصوں سے روایت کرتے ہوئے بتلائی ہے جو سب یخنی بن