صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 555 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 555

البخاری جلد ) ۵۵۵ ٨- كتاب الصلوة حضرت عائشہ کو بلالیا۔(تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب العیدین باب ۲: الحراب والدرق يوم العيد۔نمبر ۹۵۰) بعض مالکیوں کا خیال ہے کہ یہ کرتب مسجد کے باہر دکھلائے گئے تھے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۱۰ ) مگر باب کا عنوان أَصْحَابُ الْحِرَابِ فِی الْمَسْجِدِ پورے جزم کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مسجد میں ہی یہ کرتب دکھلائے گئے تھے۔مسجد کا صحن بھی مسجد کا ہی ایک حصہ ہوتا ہے۔روایت نمبر ۴۵۵ میں اس کی ایک اور سند کا مختصر حوالہ دے کر عینی شہادت اور سنگینوں کے نگا کیے جانے کی طرف توجہ منعطف کی ہے۔باب ٧٠ ذِكْرُ البيع والشَّرَاءِ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں منبر پر خرید وفروخت کا ذکر کرنا ٤٥٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ :۴۵۶ ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ سفیان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے بیٹی سے، بیٹی نے عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَتْهَا بَرِيْرَةُ تَسْأَلُهَا عمرہ ہے، عمرہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ اُن کے پاس حضرت بریرہ آئیں۔وہ فِي كِتَابَتِهَا فَقَالَتْ إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتُ اپنی آزادی حاصل کرنے کے لیے اُن سے روپیہ أَهْلَكِ وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي وَقَالَ أَهْلُهَا تی تھیں تو انہوں نے کہا کہ اگر تو چاہے تو میں إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتِهَا مَا بَقِيَ وَقَالَ تیرے مالکوں کو ( قیمت ) دے دوں اور حق وراثت سُفْيَانُ مَرَّةً إِنْ شِئْتِ أَعْتَقْتِهَا وَيَكُونُ میرا ہوگا تو اُس کے مالکوں نے (حضرت عائشہ سے ) الْوَلَاءُ لَنَا فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی کہا کہ اگر آپ چاہیں تو جو باقی ہے اس کو دے دیں۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْهُ ذَلِكَ فَقَالَ اور سفیان نے ایک دفعہ یوں بھی کہا کہ اگر آپ ابْتَاعِيْهَا فَأَعْتِقِيْهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ چاہیں تو اُسے آزاد کر دیں مگر حق وراثت ہمارا ہوگا۔أَعْتَقَ ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو حضرت عائشہ نے آپ سے یہ ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: اُسے وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً خرید لو۔اور اُس کو آزاد کر دو۔کیونکہ حق وراثت اُسی کا فَصَعِدَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہوتا ہے جو آزاد کرے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ منبر پر کھڑے ہوئے اور سفیان نے اپنی روایت میں يَشْتَرِطُونَ شُرُوْطًا لَّيْسَ فِي كِتَابِ کبھی یوں بھی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر