صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 554 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 554

صحیح البخاري - جلد ) ۵۵۴ ٨- كتاب الصلوة باب ٦٩: أَصْحَابُ الْحِرَابِ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں برچھی باز ٤٥٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ ۴۵۴ : ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ عَنْ کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي صالح سے۔صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي دن اپنے حجرہ کے دروازہ کے پاس دیکھا اور عبشی مسجد وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ میں کھیل رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وَرَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ چادر سے مجھے پردہ کئے ہوئے تھے۔میں ان کی يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ۔کھیلوں کو دیکھ رہی تھی۔اطرافه ،٤٥٥، ۹۵۰، ۹۸۸، ٢٩٠٦، ٣٥٢٩، ۳۹۳۱، 5190، ٥٢٣٦۔٤٥٥ : زَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۴۵۵ ابراہیم بن منذر نے (اس حدیث میں اتنا ) حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ بڑھایا ہے کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا کہ یونس شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ نے مجھے بتلایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن قَالَتْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے وَسَلَّمَ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُوْنَ بِحِرَابِهِمْ۔روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حبشی اپنی سنگینوں سے کھیل رہے تھے۔اطرافه ،٤٥٤، ۹٥٠، ۹۸۸، ۲۹۰٦، ۳۵۲۹، ۳۹۳۱، ٥۱۹۰، ٥٢٣٦۔تشریح مسجد میں تیر لے کر چلنے کی ممانعت کا ذکر ابھی گزر چکا ہے پس اگر اس ممانعت کی بناء پر یہ فتویٰ دیا جائے کہ مسجد میں ہتھیار سنگے کرن علی الاطلاق منع ہے تو یہ غلط ہو گا۔آپ نے حبشیوں کو مسجد میں ہتھیاروں سے کھیلنے کی اجازت دی کیونکہ اس میں کھیلنے اور دیکھنے والے دونوں چوکس رہتے ہیں مگر جب انسان مسجد میں سے گزر رہا ہو اور اس کے تیر ننگے ہوں تو اس وقت دوسروں کے زخمی ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔پس ان دو مختلف صورتوں نے مسئلہ کی نوعیت بدل دی ہے۔مسجد کا احاطہ کافی وسیع تھا اور اس کے متصل آپ کے گھر تھے۔اس لئے جنگی کرتب دیکھنے کے لئے آپ نے