صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 554
صحيح البخاري - جلد ) ۵۵۴ - كتاب الصلوة بَاب ٦٩: أَصْحَابُ الْحِرَابِ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں برچھی باز عبد العزيز ریز بن عبداللہ نے بیا رنے بیان کیا، ٤٥٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ ۴۵۴ : ہم سے عبدال اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي صالح ہے۔ صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي دن اپنے حجرہ کے دروازہ کے پاس دیکھا اور حبشی مسجد وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُوْنَ فِي الْمَسْجِدِ میں کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وَرَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ چادر سے مجھے پردہ کئے ہوئے تھے۔ میں ان کی يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ ۔ کھیلوں کو دیکھ رہی تھی۔ اطرافه ٤٥٥ ، ۹۵٠، ۹۸۸، ٢٩٠٦، ٣٥٢٩، 3931، 5190، ٥٢٣٦۔ ٤٥٥ : زَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۴۵۵ : ابراہیم بن منذر نے ( اس حدیث میں اتنا ) حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ بڑھایا ہے کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا کہ یونس ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن قَالَتْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے وَسَلَّمَ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُوْنَ بِحِرَابِهِمْ۔ روایت کی ۔ وہ کہتی تھیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حبشی اپنی سنگینوں سے کھیل رہے تھے۔ اطرافه: ٤٥٤ ، ٩٥٠ ، ۹۸۸ ، ۲۹۰۹ ، ۳۵۲۹، ٣۹۳۱، ٥١٩٠، ٥٢٣٦۔ تشریح : مسجد میں تیرے کر چلنے کی مانع کا ذکر بھی گزر چکا ہے پس اگر ممانعت کی بنا پر یہ ممانعت کی بناء پر یہ فتوی دیا جائے کہ مسجد میں ہتھیار بار ننگے کرنا علی الاطلاق منع ہے تو یہ غلط ہوگا۔ آپؐ نے حبشیوں کو مسجد میں ہتھیاروں سے کھیلنے کی اجازت دی کیونکہ اس میں کھیلنے اور دیکھنے والے دونوں چوکس رہتے ہیں مگر جب انسان مسجد میں سے گزر رہا ہو اور اس کے تیر ننگے ہوں تو اس وقت دوسروں کے زخمی ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ پس ان دو مختلف صورتوں نے مسئلہ کی نوعیت بدل دی ہے۔ مسجد کا احاطہ کافی وسیع تھا اور اس کے متصل آپؐ کے گھر تھے۔ اس لئے جنگی کرتب دیکھنے کے لئے آپ نے