صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 553 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 553

صحيح البخاري - جلد ) ۵۵۳ - كتاب الصلوة باب ٦٨ : الشِّعْرُ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں شعر پڑھنا ٤٥٣ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ ۴۵۳: ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، نَافِعٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ کہا: شعیب نے زہری سے روایت کرتے ہوئے قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہمیں بتلایا۔ وہ کہتے تھے کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمان بن ابْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ عوف نے مجھ کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت حسان بن الْأَنْصَارِيَّ يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْشُدُكَ ثابت انصاری کو حضرت ابو ہریرہ سے شہادت طلب الله هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کرتے سنا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ کہ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا: حسان ! رَّسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ ! روح القدس سے اس کی مدد کیجیو۔ حضرت ابو ہریرہ أَيَدْهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ۔ اطرافه: ٣٢١٢، ٦١٥٢۔ تشریح: صر الله نے کہا: ہاں۔ حضرت عمر نے حضرت حسان بن ثابت کے مس کے مسجد میں اشعار پڑھنے پرا پر اعتراض کیا تھا جس کی بناء پر انہیں حضرت ابو ہریرہ سے شہادت لینے کی ضرورت پیش آئی ۔ کتاب بدء الخلق میں ایک روایت سعید بن مسیب کی آئے گی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ مسجد میں ہی تھے جب آپ نے حضرت حسان سے فرمایا: أَجِبُ عَنِی یعنی میری طرف سے کفار کو جواب دو اور انہوں نے مسجد میں ہی ان کی ہجو کا جواب دیا۔ باب : ذكر الملائكة نمبر ۳۲۱۲) ترندی نے بھی حضرت عائشہ کی ایک روایت نقل کی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان کے لئے منبر رکھتے جس پر وہ کھڑے ہو ہوں کر کفار قریش کے ہجویہ دیہ اشہ اشعار کا جواب دیتے۔ (کتاب الادب باب ما جاء اء في فی انشاد ! الشعر ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا: اللهُمَّ أَيْدُهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسان کے وہ اشعار اپنے اندر روح القدس کی تائید رکھتے تھے۔ اس لئے گویا ان کا مسجد میں پڑھنا جائز تھا۔ (فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۰۹ ) مگر جواز یا عدم جواز کا تعلق ضرورت حقہ اور موقع ومحل کے ساتھ ہے۔ ایک وقت یہ ہجو کرنا اور مسجد میں شعر پڑھنا جائز تھا اور دوسرے وقت میں جبکہ کفار قریش کی اولاد مسلمان ہو چکی تھی ان ہجویہ اشعار کا دہرانا ان کے لئے اذیت کا موجب تھا اس لئے حضرت عمرؓ کا منع کرنا بغیر کسی وجہ کرنا بغیر کسی وجہ کے نہیں اور حضرت حسان کا کسی سابقہ اجازت سے علی الاطلاق حجت پکڑنا درست نہیں۔ اگلا باب قائم کر کے یہ بات حل کر دی گئی ہے۔