صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 552 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 552

البخاری جلد ) ۵۵۲ - كتاب الصلوة عام دستور العمل کو دیکھ کر اس تصرف سے معلوم ہوتا ہے کہ امام موصوف یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر جو اعتراض کیے گئے ہیں وہ ان کی حرمت کے اسی طرح خلاف ہیں جس طرح مسجد میں تیروں کے پھل بے احتیاطی سے باہر نکالے چلنا مسلمان کی حرمت کے خلاف ہے اور یہ کہ ان اعتراضوں کا جواب سابقہ بابوں کے عنوانوں اور ان کی ترتیب میں ویسے ہی مقدر ہے جیسے روایت نمبر ۴۵ میں ایک سوال کا جواب مقدر ہے۔ہر مسئلہ کے متعلق امام موصوف کسی نہ کسی تصرف سے اپنی رائے کا ضرور اظہار کرتے ہیں۔اس لیے ان بابوں کی ترتیب وغیرہ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قرین قیاس ہے۔ورنہ علی بن عبداللہ کی سند چھوڑ کر قتیبہ کی سند اختیار کرنا اور ان بابوں کی طبعی ترتیب کو بغیر وجہ کے آگے پیچھے کر دینا بے معنی ہوگا۔بَابِ ٦٧: الْمُرُورُ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں سے گزرنا ٤٥٢ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۴۵۲ ہم سے موسیٰ بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوبردہ بن أَبُوبُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔کہتے تھے کہ میں نے ابو بردہ أَبَابُرْدَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله سے سنا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَّرَّ فِي شَيْءٍ مِّنْ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے مَسَاجِدِنَا أَوْ أَسْوَاقِنَا بِنَبْلٍ فَلْيَأْخُذْ فرمایا: جو ہماری مسجدوں اور ہمارے بازاروں میں کسی عَلَى نِصَالِهَا لَا يَعْقِرْ بِكَفِّهِ مُسْلِمًا۔جگہ تیر لے کر گزرے تو چاہئے کہ وہ ان کو پھلوں سے پکڑے اپنے ہاتھ سے کسی مسلمان کو زخمی نہ کر دے۔طرفه ٧٠٧٥ تشریح: روایت نمبر ۴۵۲ کے الفاظ لَا يَعْقِرُ بِكَفِّهِ مُسْلِمًا خاص کر قابل توجہ ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم کی یہ تعریف کی ہے الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ۔(دیکھئے کتاب الایمان باب ۴ روایت نمبر۱۰، باب ۵ روایت نمبر ۱) اور اس اصل کے ماتحت آپ نے اپنے امرو نبی میں بھی ہر ایک قسم کی احتیاط اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا۔تا کہ اسلامی اجتماع میں افراد ایک دوسرے کی اذیت سے محفوظ رہیں۔بیجا اعتراضات نہ صرف افراد کو دکھ دینے کا موجب ہوتے ہیں بلکہ بعض حالات میں تو ساری قوم کو فتنے میں ڈالنے کا موجب ہو جاتے ہیں۔اسی قسم کی چہ میگوئیاں تھیں جنہوں نے حضرت عثمان کے برخلاف دلوں میں نفرت کے جذبات پیدا کر دیے تھے۔اس کا جو خطرناک انجام ہواوہ عالم اسلام سے مخفی نہیں۔(اس ضمن میں دیکھئے کتاب الایمان باب ۴۲ شرح روایت نمبر ۵۸)