صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 551 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 551

صحيح البخاري - جلد ) ۵۵۱ - كتاب الصلوة عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ (ابن ماجه المقدمة باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين) پہلے تین بابوں کو بطور تمہید کے قائم کر کے باب ۶۵ میں حضرت عثمان کی تع ت عثمان کی تعمیر کا واقعہ دہرانے سے امام بخار سے امام بخاری کی یہی غرض معلوم ہوتی ہے کہ وہ تعمیر ضرورت کے مطابق تھی اور لَتُرَ خُرِ فُنَّهَا کی انداری پیشگوئی کی مصداق نہ تھی۔ بَاب ٦٦: يَأْخُذُ بِنُصُولِ النَّبْلِ إِذَا مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں جب گزرے تو تیروں کے پھلوں کو پکڑلے ٤٥١ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ۴۵۱: ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرٍ و أَسَمِعْتَ نے ہم سے بیان کیا۔ کہتے تھے کہ میں نے عمرو سے جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُوْلُ مَرَّ رَجُلٌ فِي کہا: کیا تم نے حضرت جابر بن عبداللہ کو یہ کہتے سنا تھا الْمَسْجِدِ وَ مَعَهُ سِهَامٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ کہ ایک شخص مسجد میں سے گزر رہا تھا۔ اس کے پاس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ بِنصَالِهَا ۔ تیر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: اطرافه: ۷۰۷۳، ٧٠٧٤۔ ان کے پھلوں کو پکڑو۔ ونق تشریح: عنوان باب بعض دیگر روایات کو جونسائی اور مسلم نے نل کی میں مد نظر رکھتے ہوئے قائم کیا گیا ہے۔ ان روایتوں میں یہ الفاظ ہیں: لِيَأْخُذُ بِنصَالِهَا ۔ فَلْيُمْسِكُ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ۔ (مسلم۔ كتاب البر والصلة۔ باب امر من مر بسلاح في المسجد۔ نمبر ۴۷۴۰،۴۷۳۹) یہ روایتیں امام بخاری کی شروط صحت کے مطابق نہیں۔ اس لئے حضرت جابر والی اسی روایت کو ایک نئی سند کے ساتھ دہرایا ہے۔ مگر اس سے کسی مسئلہ کے جواز یا عدم جواز کے متعلق کسی حتمی رائے کا استنباط نہیں کیا گیا۔ البتہ اس سے سابقہ باب میں عین موقع ومحل کے مطابق حضرت عثمان پر طعنہ کرنے والوں کے خلاف ایک ضمنی استدلال ضرور کیا ہے۔ اسی لئے اس باب کو جس میں یہ استدلال مقدر ہے باب ۶۶ پر مقدم کیا ہے۔ یہاں روایت نمبر ۱ ۴۵ کی ایسی سند منتخب کی ہے جس میں وہ جواب محذوف ہے جو عمر و بن دینار نے سفیان بن عیینہ کو دیا۔ یہی روایت کتاب الفتن میں بجائے قتیبہ کے علی بن عبد اللہ مدینی سے نقل کی گئی ہے اور اس کے آ اور اس کے آخر میں ہے: قَالَ نَعَمُ (بخارى كتاب الفتن باب قول النبي من حمل علينا السلاح فليس منا ۔ نمبر ۷۰۷۳) یعنی انہوں نے جواب دیا: ہاں ۔ علامہ ابن حجر کے نزدیک اس روایت میں یہ جواب دراصل مقدر ہے ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۰۷ ) مگر امام بخاری کا اس روایت کو چھوڑ کر اس روایت کو یہاں اختیار کرنا بلا وجہ نہیں۔ یہاں انہوں نے دو قسم کا تصرف کیا ہے۔ ایک یہی انتخاب روایت کا اور دوسرا یہ کہ باب ۶۵ اور باب ۶۶ میں تقدیم و تاخیر کر کے بابوں کی طبعی ترتیب کو بدل دیا ہے۔ امام بخاری کے