صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 551
البخارى- جلد ) ۵۵۱ ٨- كتاب الصلوة عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيْنَ) (ابن ماجه المقدمة باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين) پہلے تین بابوں کو بطور تمہید کے قائم کر کے باب ۶۵ میں حضرت عثمان کی تعمیر کا واقعہ دہرانے سے امام بخاری کی یہی غرض معلوم ہوتی ہے کہ وہ تعمیر ضرورت کے مطابق تھی اور لتزخر فنَّهَا کی انداری پیشگوئی کی مصداق نہ تھی۔بَاب ٦٦ : يَأْخُذُ بِنُصُولِ النَّيْلِ إِذَا مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں جب گزرے تو تیروں کے پھلوں کو پکڑلے ٤٥١: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيْدٍ قَالَ ۴۵۱: ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرٍو أَسَمِعْتَ نے ہم سے بیان کیا۔کہتے تھے کہ میں نے عمر و سے جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَرَّ رَجُلٌ فِي کہا: کیا تم نے حضرت جابر بن عبد اللہ کو یہ کہتے سنا تھا الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ سِهَامٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ کہ ایک شخص مسجد میں سے گزر رہا تھا۔اس کے پاس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ بِنصَالِهَا۔تیر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ان کے پھلوں کو پکڑو۔اطرافه: ۷۰۷۳، ٧٠٧٤۔عنوان باب بعض دیگر روایات کو جو نسائی اور مسلم نے نقل کی ہیں مد نظر رکھتے ہوئے قائم کیا گیا ہے۔ان روایتوں میں یہ الفاظ ہیں: لِيَأْخُذُ بصَالِهَا فَلْيُمْسِكُ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا تشریح مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔(مسلم۔كتاب البر والصلة باب امر من مر بسلاح في المسجد، نمبر ۴۷۴۰،۴۷۳۹) یہ روایتیں امام بخاری کی شروط صحت کے مطابق نہیں۔اس لئے حضرت جابر والی اسی روایت کو ایک نئی سند کے ساتھ دہرایا ہے۔مگر اس سے کسی مسئلہ کے جواز یا عدم جواز کے متعلق کسی حتمی رائے کا استنباط نہیں کیا گیا۔البتہ اس سے سابقہ باب میں عین موقع محل کے مطابق حضرت عثمان پر طعنہ کرنے والوں کے خلاف ایک ضمنی استدلال ضرور کیا ہے۔اس لئے اس باب کو جس میں یہ استدلال مقدر ہے باب ۶۶ پر مقدم کیا ہے۔یہاں روایت نمبر ۱ ۴۵ کی ایسی سند منتخب کی ہے جس میں وہ جواب محذوف ہے جو عمرو بن دینار نے سفیان بن عیینہ کو دیا۔یہی روایت کتاب الفتن میں بجائے قنیہ کے علی بن عبد اللہ مدینی سے نقل کی گئی ہے اور اس کے آخر میں ہے: قَالَ نَعَمُ (بخارى كتاب الفتن باب قول النبى من حمل علينا السلاح فليس منا۔نمبر ۷۰۷۳) یعنی انہوں نے جواب دیا: ہاں۔علامہ ابن حجر کے نزدیک اس روایت میں یہ جواب در اصل مقدر ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۰۷ ) مگر امام بخاری کا اُس روایت کو چھوڑ کر اس روایت کو یہاں اختیار کر نا بلا وجہ نہیں۔یہاں انہوں نے دو قسم کا تصرف کیا ہے۔ایک یہی انتخاب روایت کا اور دوسرا یہ کہ باب ۶۵ اور باب ۶۶ میں تقدیم و تاخیر کر کے بابوں کی طبعی ترتیب کو بدل دیا ہے۔امام بخاری کے