صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lxi
صحيح البخ اسم دیباچه لئے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ایسے تصرفات کی بہت سی مثالیں اس کتاب کے مطالعہ میں آپ کی نظر سے گزریں گی۔( بطور مثال کے کتاب الصلوۃ باب ۵۰ ملاحظہ فرمائیں) امام موصوف نے کتاب العلم میں دو باب قائم کئے ہیں۔ایک کا مضمون یہ ہے کہ اشارہ و کنایہ سے فتویٰ دینا جائز ہے اور دوسرے کا مضمون یہ ہے کہ مومن کی مثال کھجور کی سی ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور جس کے اجزاء میں سے کوئی جزء بھی خالی از فائدہ نہیں۔یہ دونوں باب ۱۴ و ۲۴ در اصل یہ سمجھانے کے لئے قائم کئے گئے ہیں کہ وہ اپنی کتاب میں عقائد و مسائل کے متعلق تصرفات لفظی جن کا تعلق ہاتھ سے ہے اور اشارات و کنایات کے ذریعہ جن کا تعلق دماغ کے ساتھ ہے موقع ومحل کی مناسبت سے فتویٰ دیں گے اور یہ کہ ایک چھوٹے سے چھوٹا تصرف بھی کسی نہ کسی مقصد و مدعا کو اپنے اندر لئے ہوگا اور قارئین کا بھی یہ فرض ہوگا کہ وہ اپنی نظر ثاقب اور قیاس صحیح سے اسے معلوم کریں۔آنحضرت ﷺ کی اس ہدایت کے ماتحت جو روایت نمبر ۳ے سے ضمنا و استدلالا مستنبط ہوتی ہے، امام موصوف نے جہاں معین تصرفات اختیار کر کے اپنے معین دستور العمل کا خاموشی سے ہمیں پتہ دیا ہے وہاں اشاروں ہی اشاروں میں اپنے سینکڑوں فتووں کو ابواب کے عنوانوں اور ان کی ترتیب اور روایتوں کی تقدیم و تاخیر میں اس عمدگی سے لپیٹ کر رکھ دیا ہے کہ انہیں معلوم کرنے میں ذرا دقت وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔اس مضمون کے واضح کرنے کے لئے چند ایک مثالیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔(۱) جہاں امام موصوف کی روایت کسی دوسرے محدث کی روایت سے ٹکراتی ہے اور وہ وجہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس کو چھوڑ کر دوسری روایت پر مسئلہ استنباط کرنے کے لئے کیوں اعتماد کیا گیا تو وہ اپنی اس روایت کو ایک دوسری سند سے تقویت دینے کے لئے اس کا مختصر حوالہ دیتے ہوئے اس دوسری روایت کو ایسے لفظ پر ختم کریں گے کہ جس میں ان کی وجہ ترجیح مضمر ہوگی۔ظاہر میں دیکھنے والا سمجھے گا کہ بوجہ تکرار کے اسے مکمل درج نہیں کیا گیا۔گو یہ بھی صحیح ہومگر ایک خاص لفظ پر آ کر اسے چھوڑ دینا بلا وجہ نہیں۔وہ در حقیقت اس معین لفظ سے قارئین کو اپنی دلیل بتانا چاہتے ہیں۔مثلاً رأيتُ (یعنی میں نے دیکھا ) پر جب اسے چھوڑیں گے تو اس کا مقصد یہ ہوگا کہ ایک راوی اپنا مشاہدہ بیان کرتا ہے اور دوسرا اپنی شنید۔اس لئے دوسرے رادی کی روایت بوجہ اس کے سماعی ہونے کے اس قابل نہیں کہ اس سے مسئلہ کا استنباط کیا جائے۔اس قسم کے تصرفات کی مثالوں کے لئے دیکھئے شرح روایت نمبر ۲۰۵ ۴۵۴٬۳۰۳-۴۵۶۔(۲) بابوں کے عنوانوں کے متعلق ایک بات جو خاص طور پر ملحوظ رکھنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ ہر عنوان سے یہ نہ سمجھا جائے کہ امام موصوف اس کے ضمن میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ایسا نہیں ہے بلکہ بعض وقت کسی نام نہا د فقیہہ یا محدث کے خود ساختہ مسئلہ اور اس کے غلط استنباط کی تردید کرنا یا اس قسم کا کوئی اور امر مقصود بالذات ہوتا ہے۔جیسا کہ امام موصوف نے ابن ابی شیبہ اور عبدالرزاق کے اقوال کی تردید اشاروں سے بہت جگہ کی ہے۔مثال کے لئے دیکھئے کتاب الصلوۃ باب ۳۴٬۳۳۔کتاب الوضوء باب ۴۴۔کتاب الغسل تشریح باب ۲۸٬۲۰۱۸٬۱۷۵۳ اور کتاب الحیض تشریح باب ۲۷۲۶۔