صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 543
البخارى- جلد ) ٨- كتاب الصلوة تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ ملائکہ تم میں سے ایک کے لئے دعا مانگتے رہتے ہیں الَّذِي صَلَّى فِيْهِ مَا لَمْ يُحْدِثُ تَقُولُ جب تک کہ وہ اپنی نماز کی جگہ میں ٹھہرا رہتا ہے جس میں کہ اُس نے نماز پڑھی۔بشرطیکہ وہ بے وضو نہ ہو اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ۔جائے۔(ملائکہ) کہتے ہیں: اے اللہ ! اسے بخشید ، اے اللہ ! اس پر رحم کیجیو۔اطرافه : ١٧٦، ٤٧٧ ٦٤٧، ٦٤٨ ، ٦٥٩ ، ۲۱۱۹، ۳۲۲۹، ٤۷۱۷۔تشریح: اور اس اگر چہ مسجد میں سونے کی اجازت کے متعلق امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کوئی واضح سند پیش نہیں کر سکے وقت تک انہوں نے صرف استدلال ہی سے کام لیا ہے مگر ان کا مذہب اس بارے میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کی حرمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کو اس غرض کے لئے استعمال کرنا چاہئے جس غرض کے لئے وہ بنائی جاتی ہے اور اس میں نمازی کو حتی الوسع با وضو رہنا چاہئے۔ملائکہ اس کے لئے دعائے رحمت کریں گے۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ مساجد میں سونا اور بے وضو ہو جانا اس رحمت کو زائل کرنے والی باتیں ہیں۔مسلمان کو اس سے بچنا چاہئے۔مجبوری کی حالتیں استثنائی ہیں جن پر عام اجازت کی بنیا د رکھنا درست نہیں۔اس اختلافی مسئلہ کی بحث کے ضمن میں ان روایتوں کے لانے سے اُن کا یہی مقصد معلوم ہوتا ہے۔اَلْمَلَائِكَةُ تُصَلَّى عَلَى أَحَدِكُمُ : ملائکہ کے دعا دینے سے یہی مراد ہے کہ جب تک انسان اپنی نماز گاہ میں بحالت وضو بیٹھا رہتا ہے اس کے نفس میں ذکر الہی کے پاکیزہ اثرات قائم رہتے ہیں اور اس اثر کے ماتحت اس کے قومی بھی کم و بیش متاثر رہتے ہیں۔جس کا نتیجہ مغفرت یعنی میلان گناہ کا دب جانا اور رحمت یعنی روحانی ترقی کے لئے استعداد کا پیدا ہوتا ہے۔مَالَمْ يُحدِث کے ایک وہ معنی ہیں جو تر جمہ میں کئے گئے ہیں اور ایک یہ معنی ہیں کہ جب تک کوئی ناگوار بات نہ کرے۔دونوں صورتوں میں اس کی توجہ الی اللہ میں فرق آئے گا اور روحانی کیفیات زائل ہو جائیں گی، بے وضو ہونے کی وجہ سے بھی اور دوسرے ناگوار امور کے پیدا ہونے کی وجہ سے بھی۔اس لئے کہ باوضو ہونے کا تصور طہارت اور عبادت کے ساتھ بوجہ لازم و ملزوم ہونے کے ذہن میں کچھ ایسا مستحکم ہو چکا ہوتا ہے کہ بے وضو ہونے کا خیال نمازی کی ساری معنویات کو مضطرب کر دیتا ہے جس سے پیدا شدہ ملکی تأثیرات منقطع ہو جاتی ہیں۔اس مضمون کا تعلق زیادہ تر علم نفس کے ساتھ ہے۔نفس ہی دراصل ملائکہ کی تجلی گاہ اور ان کے عمل کی آماجگاہ ہے۔بَابِ ٦٢: بُنْيَانُ الْمَسْجِدِ مسجد کا بنانا وَقَالَ أَبُو سَعِيْدٍ كَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ اور حضرت ابوسعید نے کہا کہ مسجد کی چھت کھجور کی ٹہنیوں مِنْ جَرِيْدِ النَّخْلِ وَأَمَرَ عُمَرُ بِبِنَاءِ کی تھی اور حضرت عمر نے مسجد کے بنانے کا حکم دیا اور کہا