صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 542
خاری جلد ا ۵۴۲ ٨- كتاب الصلوة أَتَيْتُ النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ فِى الْمَسْجِدِ : حضرت جابر بن عبد اللہ کا محولہ بالا واقعہ کتاب البیوع (۲۰۹۷) كتاب الوكالة (٢٣٠٩) كتاب الشروط (۲۷۱۸) میں مفصل آئے گا۔سفر میں آپ نے ان سے ان کا اونٹ خرید لیا تھا۔اس کی قیمت لینے کے لئے وہ آئے۔اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے تو آپ نے دور کعتیں پڑھنے کے لیے انہیں فرمایا۔اس کے بعد ان کو قیمت ادا کی۔یہی وہ قرض تھا جس کا ذکر اس روایت میں ہے۔حضرت جابر بن عبداللہ بھی سفر سے ہی آئے تھے۔بَاب ٦٠: إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ جب مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھے ٤٤٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۴۴۴ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عامر بن اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ عبدالله بن زبیر سے، انہوں نے عمر و بن سکیم زرقی الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِي أَنَّ سے، عمرو نے ابو قتادہ سکمی سے روایت کی کہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ۔طرفه: ١١٦٣۔تشریح: پڑھ لے۔یہاں مسجد میں مطلق داخل ہونے کا ذکر ہے۔خواہ سفر سے آیا ہو یا اپنے گھر سے۔ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی پہلی دو سنتیں بھی مراد ہوسکتی ہیں۔پنجگانہ نماز کے علاوہ اگر کسی اور وقت میں بھی مسجد میں داخل ہو تو دور کعتیں پڑھے۔یہ نوافل دخول مسجد کے آداب میں سے ہیں اور تحیۃ المسجد کہلاتے ہیں۔بَابِ ٦١: الْحَدَثُ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں بے وضو ہو جانا ٤٤٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ ۴۴۵ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابوزناد سے، الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَلَائِكَةُ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رض