صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 541
صحيح البخاری جلد ا ۵۴۱ - كتاب الصلوة باب ٥٩: الصَّلَاةُ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ جب کسی سفر سے آئے تو اُس وقت نماز پڑھنا وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ كَانَ النَّبِيُّ اور حضرت کعب بن مالک نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ وَسلم جب کسی سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيْهِ۔ اس میں نماز پڑھتے ۔ ٤٤٣: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى قَالَ ۴۴۳ : ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ مِسْعَر نے ہم سے بیان کیا، کہا: محارب بن دثار نے دِثَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ أَتَيْتُ حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ہمیں بتلایا: وہ کہتے تھے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الْمَسْجِدِ قَالَ مِسْعَرٌ أَرَاهُ قَالَ ضُحًى پاس آیا اور آپ مسجد میں تھے۔ مشعر نے کہا: میرا فَقَالَ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ لِي عَلَيْهِ خیال ہے کہ محارب نے کہا: چاشت کے وقت آپ نے فرمایا: دورکعتیں پڑھو آپ کے ذمہ میرا قرض تھا تو دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي۔ آپ نے مجھے وہ ادا کیا اور زیادہ دیا۔ اطرافه: ۱۸۰۱ ، ۲۰۹۷ ، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵ ، ٢٣٩٤، ٢٤٠٦ ، ٢٤٧٠، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، ،۵۰۸۰ ،۵۰۷۹ ، ۱۰۵۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲۹٢٧، ٢٨٦١، ٦٧۱۸ ٥٢٤٣، ٥٢٤٤، ٥٢٤٥، ٥٢٤٦، ٥٢٤٧ ، ٥٣٦٧، ٦٣٨٧ ی امام بخاری باب قائم کرنے میں ہمیش کوئی نہ کوئی ترتب اورتعلق طوظ رکھتے ہیں۔ مگر یہاں بظاہر کوئی ترتیب نظر نہیں آتی ۔ سوائے اس کے اس میں ان فقہاء پر چوٹ کرنا مقصود ہو جو ضرورت سے زیادہ اس بحث میں پڑ گئے کہ مسجدوں میں سونا جائز ہے یا نہیں ۔ مسجد میں در اصل عبادت کے لئے ہیں اس لئے اس غرض کو اور اُس ادب کو ملحوظ و مقدم رکھنا چاہئے جو عبادت کے شایاں ہو۔ اضطراری حالت پر قیاس کر کے مسائل میں توقع اختیار کرنا مناسب نہیں۔ عنوان باب کی نحوی ترکیب بھی اسی تقدیم کی طرف توجہ دلاتی ہے جیسا کہ ما بعد کے تین باب بھی۔ عنوان باب میں حضرت کعب بن مالک کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ کتاب المغازی(باب ۷۹ حدیث کعب بن مالک ۔ نمبر ۴۴۱۸) میں مفصل آئے گا۔ اس حوالہ سے صرف یہ جتلانا مقصود ہے کہ آپ کا سفر سے واپسی پر یہ عمل درآمد تھا جیسا کہ روایت نمبر ۴۴۴ سے بتلایا کہ نہ صرف آپ کا ہی اپنا یہ عمل درآمد تھا بلکہ دوسروں کو بھی دور رکعتیں پڑھنے کا حکم فرماتے۔