صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 540
صحيح البخاری جلد ا ولده - كتاب الصلوة أَهْلِ الصُّفَةِ مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ إِمَّا حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے کہ میں إِزَارٌ وَإِمَّا كِسَاءٌ قَدْ رَبَطُوْا فِي أَعْنَاقِهِمْ نے اصحاب الصفہ میں سے ستر (صحابہ کرام) کو دیکھا۔ فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقَيْنِ وَمِنْهَا مَا اُن میں سے ایک آدمی بھی تو نہیں تھا جس پر چادر ہو۔ يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ كَرَاهِيَةَ أَن یا تہ بند یا کمبل۔ اپنی گردنوں میں (یہ) باندھے تُرَى عَوْرَتُهُ۔ ہوئے ہوتے۔ ان میں سے کوئی کپڑا اتنا تھا کہ آدمی کی پنڈلیوں تک پہنچتا اور کوئی ٹخنوں تک ۔ وہ اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھالتے ۔ ناگوار گزرتا کہ کہیں اُن کا ننگ نہ دکھائی دے۔ تشريح : قَدِمَ رَهْطُ مِنْ عُكُل ۔۔ فَكَانُوا فِي الصُّفَةِ: اس باب میں شکل قبیلے کا جو وال دیا ا جو حوالہ دیا گیا ہے اس کی تفصیل کتاب الوضوء باب ۶۶ روایت نمبر ۲۳۳ میں دیکھئے ۔ اور حضرت عبد الرحمن کی محولہ بالا روایت كَانَ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ الْفُقَرَآءَ آگے کتاب مواقيت الصلوة باب ۴: السمر مع الضيف۔ نمبر ۶۰۲ میں آئے گی۔ گی ۔ ان حوالوں سے یہ یہ پتہ بتلانا مقصود ہے کہ وہ لوگ بے خان و مال تھے اور ان کے لیے سوائے مسجد کے اور کہیں ٹھکانا نہ تھا۔ آج کل مسجدوں میں سونا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے کہ مسجد میں سونا مکروہ ہے مگر جمہور کے نزدیک جائز ہے۔ امام مالک کے نزدیک ان لوگوں کے لیے جائز نہیں جن کے گھر ہوں ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحه ۶۹۳) امام بخاری امام مالک کی تائید میں معلوم ہوتے ہیں جیسا کہ مابعد کے تین بابوں کی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے۔ أبو تراب کے معنے خاکسار ۔ ابو کا لفظ بمعنے دو استعمال ہوتا ہے۔ ابو اللحية: داڑھی والا ۔ أَبو العباء: چونہ والا ۔ أَبُو لَهَب - :: آگ والا - قُمْ اَبَا تُرَاب : یہ فقرہ شفقت پر دلالت کرتا ہے۔ حضرت علی حضرت علی ناراض ہو کر آئے تھے۔ آپ نے نار ان کو منایا۔ مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءُ : صحابہ کرام کی غربت اور محتاجی کا یہ حال تھا مگر جو حیرت انگیز کام انہوں نے اس فقر اور فاقہ کی حالت میں کیا ہے وہ بے نظیر ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اس سے ظاہر ہے کہ آپ نے ان خاکساروں میں اپنی قدسی روح کچھ ایسی پھونکی کہ ان میں سے ہر ایک تمام دنیا کے لئے آسمانی بگل بن گیا کہ عظیم الشان انقلاب کے لئے تیار ہو جاؤ اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے خارق عادت طور پر دنیا میں حیرت انگیز اور عظیم الشان انقلاب پیدا کیا۔ انسان کی قدر و قیمت اس کے لباس میں نہیں بلکہ اُس پاک تغیر میں ہے جو وہ قوت قدسیہ کہ ماتحت اپنے ماحول میں پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی یہ ظاہری بے سرو سامانی اور دوسری طرف ان کی کامیابی ۔ دونوں میں کوئی نسبت نظر نہیں آتی۔