صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page lx of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lx

صحيح البخارى دیباچه زمانہ کے عین تقاضا کے مطابق رحمت الہی نے مسلمانوں کی دستگیری فرمائی اور اس غیر معمولی خطرہ کا تدارک کرنے کے لئے خارق عادت قوائے ذہنی کا مالک بنا کر امام محمد بن اسماعیل جیسا انسان پیدا کیا۔جس نے صحیح احادیث کو اور صحیح علم فقہ کو اور صحیح علم کلام کو نکھار کر رکھ دیا اور یہ تینوں باتیں ہی صحیح مسند بخاری کا اصل موضوع ہیں اور جیسا کہ امام موصوف نے خواب میں دیکھا تھا، پورا ہوا کہ ان کے ہاتھ میں پنکھا ہے جس سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے آپ کے چہرہ مبارک سے لکھیاں ہٹا ر ہے ہیں۔(مقدمة فتح البارى۔الفصل الاول في بيان السبب الباعث۔صفح۹) (عمدة القارى۔الباحث على تاليف الشرح الجزء الاول) راویوں کی اکاذیب متفقہین کی موشگافیاں متکلمین کے منطقی سفسطے اور متصوفین کے موہومہ خز عبیلات و ترہات۔یہ سب وہ لکھیاں تھیں جو آپ کے زمانہ میں اسلام کے ارد گرد بھنبھنا ہی تھیں اور امام موصوف نے ان سب کو ہٹا دیا۔متن میں احادیث صحیحہ ہیں، ابواب کے عنوانوں میں عقائد واحکام اور مسائل شرعیہ کے متعلق اپنی رائے کا اظہار، تعلیقات (بغیر سند کے حوالہ جات) اور متابعات ( تائیدی حوالہ جات ) میں کئی قسم کے مقاصد از قبیل استشہاد واستدلال، تردید یا تصدیق مخفی کر دئے ہیں۔تعلیق محمد ثین کی اصطلاح میں اس بات کو کہتے ہیں کہ کسی روایت کی سند کے ابتداء میں ایک یا اس سے زائد راویوں کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہو اور متابعت سے مراد تائیدی حوالہ ہے۔امام موصوف نے موقوف حدیثوں کو تعلیقات میں رکھا ہے اور اصل متن متصل احادیث سے مرتب کیا ہے۔اقلید بخاری: بظاہر نظر امام موصوف ہماری رہنمائی کے لئے کوئی ضابطہ، قواعد وعلامات نہیں چھوڑ گئے، جس سے ان کے معین دستور کا ہمیں علم ہوتا۔مگر تا ہم ابواب کے عنوانوں اور ان کی ترتیب وغیرہ میں ایک ہی قسم کے متعد تصرفات پر غور کرنے سے یہ بات حتمی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ آپ نے اپنی کتاب کی تصنیف و ترتیب میں شروع سے لے کر آخر تک ایک معین دستور العمل اختیار کیا ہے جو خود بخود واضح ہو جاتا ہے۔اگر اس میں یک جہتی کا التزام نہ ہوتا تو ہمارے لئے کسی قاعدہ یا دستور کا استخراج ناممکن یا اس کی تطبیق غیر یقینی ہوتی۔مگر چونکہ ان کے مخصوص تصرفات میں ضبط وربط اور یک رنگی و یکسوئی پائی جاتی ہے۔اس لئے امام موصوف نے مین حکمت سے اپنے اس دستور العمل کے ذکر کو چھوڑ دیا ہے اور بابوں کے عنوان قائم کرنے میں یہاں تک احتیاط سے کام لیا ہے کہ ان کے الفاظ بھی کسی نہ کسی مستند روایت کے الفاظ ہیں جن کے اختیار کرنے میں امام موصوف کو بوجہ اپنے وسعت حفظ اور سرعت استحضار کے کوئی وقت محسوس نہیں ہوئی۔مگر محققین کو معنونہ الفاظ اصل ماخذ تک پہنچانے میں بہت بڑی محنت کرنی پڑی ہے۔معلوم ہوتا ہے که امام موصوف کو عنوان قائم کرنے میں یہ احتیاط اس لئے برتنی پڑی کہ آپ نے نہ چاہا کہ اس کتاب میں جس کا نام انہوں نے جامع مسند صحیح قرار دیا ہے، ایک لفظ بھی ان کی طرف سے داخل ہونے پائے ، سوائے اس کے کہ کہیں کہیں آپ نے قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ کہہ کر کسی لفظ کا معنی بتلایا یا کسی خاص امر کی طرف توجہ دلائی ہے۔( مثال کے لیے دیکھئے روایت نمبر ۱۲۰) البتہ نفس عنوان کے الفاظ انتخاب کرتے وقت کئی ملاحظات ضرور مد نظر رکھے ہیں اور جس کی اصل کو انہوں نے اپنی صحیح سند کے ترتیب دینے میں ملحوظ رکھا ہے۔اس کی پابندی کرنے کی حالت میں اس قسم کے تصرفات کے بغیر آپ کے