صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 538
البخاری جلد ا عِنْدِيْ مَجْلِسًا إِلَّا قَالَتْ وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيْبِ رَبِّنَا ۵۳۸ - كتاب الصلوة آیا کرتی اور باتیں کیا کرتی تھی۔کہتی تھیں : جب بھی وہ میرے پاس بیٹھتی تو وہ ( یہ شعر ) ضرور پڑھتی : - سه أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي اور وہ ہار کا دن بھی ہمارے رب کے عجائبات میں سے ہے دیکھئے تو اُس نے مجھے کفرستان سے نجات دے دی۔قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهَا مَا شَأْنُكِ لَا حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ میں نے اُسے کہا کہ یہ کیا بات تَقْعُدِيْنَ مَعِي مَقْعَدًا إِلَّا قُلْتِ هَذَا ہے تو جب بھی میرے پاس بیٹھتی ہے تو یہ شعر ضرور پڑھتی قَالَتْ فَحَدَّثَتْنِيْ بِهَذَا الْحَدِيْثِ۔ہے؟ کہتی تھیں کہ تب اُس نے مجھ سے یہ بات بیان کی۔طرفه: ۳۸۳۵ تشریح: وشاح اس بارکو کہتے ہیں جوموتیوں یاقیمتی پتھروں کا ہو۔دھاگوں میں پروئے ہوئے ہوں یا چڑے کے لسموں سے جڑے ہوئے۔باب ۵۷ و ۵۸ کا خلاصہ یہ ہے کہ مرد یا عورتیں جو بے خان و مال ہوں مسجدوں میں سو سکتے ہیں۔لیکن عورت کے متعلق علیحدہ باب قائم کرنے سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ عورت کی ذات یا اس کے ایام ماہواری اس امر کے مانع نہیں کہ وہ مسجد میں رہے اور وہاں سوئے۔بشرطیکہ اس کے رہنے کے لیے اور کوئی جگہ نہ ہو اور وہ مسجد کی صفائی کا اہتمام رکھے۔باب ٥٨ : نَوْمُ الرِّجَالِ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں مردوں کا سونا وَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَدِمَ رَهْطٌ مِنْ ابوقلابہ نے حضرت انس (بن مالک) سے روایت عُكْلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرتے ہوئے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فَكَانُوْا فِي الصُّفَةِ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَل قبیلہ کے کچھ لوگ آئے اور وہ مسجد کے صفہ میں شکل أَبِي بَكْرِ كَانَ أَصْحَابُ الصُّفَةِ الْفُقَرَاءَ رہے۔اور حضرت عبد الرحمن بن ابی بکڑ نے کہا کہ اصحاب الصفہ غریب تھے۔٤٤٠: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۴۴۰: ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا : سیمی نے يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عبید اللہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔کہا: قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَنَامُ وَهُوَ مجھ سے نافع نے بیان کیا، کہا: حضرت عبد اللہ بن عمر ) شَابٌ أَعْرَبُ لَا أَهْلَ لَهُ فِي مَسْجِدِ نے مجھے بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں سویا