صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 536
صح البخاری جلد ا ۵۳۶ ٨- كتاب الصلوة عبد الله بَاب ٥٦ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُوْرًا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ ساری زمین میرے لئے سجدہ گاہ اور پاکیزہ بنائی گئی ہے ٤٣٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ ۴۳۸ : ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا: بنشیم حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ هُوَ أَبُو نے ہم سے بیان کیا، کہا: سیار نے جو گم کے باپ الْحَكَم قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيْدُ الْفَقِيْرُ قَالَ ہیں ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: یز ید فقیر نے ہم سے حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ بیان کیا، کہا : حضرت جابر بن عبد اللہ نے ہمیں بتلایا۔اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيْتُ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَمْسًا لَّمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مجھے پانچ ایسی باتیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ ہی کو نہیں دی گئیں۔ایک مہینہ بھر کی مسافت تک نبی وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُوْرًا رُعب سے میری مدد کی گئی ہے اور تمام زمین میرے وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِّنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ لئے سجدہ گاہ اور پاک بنائی گئی ہے۔اس لئے میری فَلْيُصَلَّ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَكَانَ اُمت میں سے جس شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لے اور میرے لئے غنیمتیں النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ حلال کی گئی ہیں اور نبی خاص کر اپنی قوم کی طرف ہی إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ۔اطرافه: ۳۳۵، ۳۱۲۲ تشریح: بھیجا جاتا تھا اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں اور مجھے شفاعت کا اختیار دیا گیا ہے۔یعنی ان جگہوں کے علاوہ جن کا ذکر گزر چکا ہے باقی سب زمین ہی مسلمانوں کے لیے سجدہ گاہ ہے۔طَهُورُ : الطَّاهِرُ الْمُطَهَرُ۔خود بھی پاک اور دوسرے کو بھی پاک کرنے والی ہے۔روایت مذکورہ بالا کتاب التیمم نمبر ۳۳۵ میں بھی گزر چکی ہے۔یہاں اس غرض سے لائی گئی ہے کہ گر جاؤں وغیرہ میں نماز پڑھنے کی ممانعت کا جو مسئلہ ہے اس کا تعلق ان کی ظاہری ناپاکی سے نہیں بلکہ دیگر اعتبارات سے ہے۔