صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 535 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 535

البخارى- جلد ا مَسَاجِدَ يُحَدِّرُ مَا صَنَعُوْا۔۵۳۵ - كتاب الصلوة کی قبریں مسجد میں بنالی ہیں۔جو انہوں نے کیا اُس سے بچنے کے لئے متنبہ فرماتے تھے۔اطراف الحديث ٤٣٥: ۱۳۳۰ ، ۱۳۹۰، ٣٤٥٣، ٤٤٤١ ، ٤٤٤٣، ٥٨١٥، اطراف الحديث ٤٣٦: ٣٤٥٤، ٥٨١٦،٤٤٤٤ ٤٣٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۴۳۷ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَاتَلَ الله حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ الْيَهُودَ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان یہودیوں کو ہلاک کرے۔انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنالیا۔تشریح: باب ۵۵ بغیر عنوان کے قائم کر کے حضرت عمر کے عمل پر مزید روشنی ڈالی ہے اور وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں اس گھبراہٹ کا اظہار فرمایا تھا کہ کہیں مسلمان بھی قبر پرستی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔اس لئے حضرت عمرہ کا فعل بھی اسی خوف پر مبنی تھا اور اُن کا فرض تھا کہ احتیاط فرماتے۔اس باب سے حضرت عمر کے عمل کو ترجیح دی گئی ہے۔نیز اس میں ایک اعتراض کا جواب بھی دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ عیسائی تو صرف حضرت مسیح علیہ السلام کے ہی قائل ہیں۔انبیاء جو جمع کا صیغہ ہے اُن کی طرف کیوں منسوب کیا گیا۔روایت نمبر ۴۳۷لا کر بتلایا کہ اس سے مراد یہود کے انبیاء ہیں۔پہلی روایت میں یہودیوں اور عیسائیوں کا اکھٹا ذکر کیا گیا ہے۔گو عیسائیوں نے ایک ہی نبی پر گر جا کھڑا کیا ہو مگر یہاں چونکہ دونوں قوموں کے انبیاء کا ذکر تھا اس لئے قواعد کی رو سے جمع کا صیغہ ہی استعمال ہونا چاہئے تھا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۸۹) قَاتَلَ الله کا جملہ اظہار نفرت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ایسا ہی لَعَنَ اللهُ اور وَيْلٌ لَّه کے جملے بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔قرآن مجید نے شرک کو گناہ عظیم قرار دیا ہے بوجہ اس کے کہ وہ انسان کو اُس کے بلند مقام سے نیچے گرا تا اور اسے رحمت الہی سے محروم کر دیتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار نفرت واقعات پر مبنی ہے۔یہ تو میں روحانی نعمتوں سے اسی لئے محروم ہو گئیں کہ انہوں نے حقیقی معبود کو چھوڑ کر باطل معبودوں کی پوجا شروع کر دی۔(تفصیل کے لئے دیکھئے: (۲۔سلاطین ، باب : ۱۷ ) اور ( Antiquities of the Jews جلد دوم فصل اول)