صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 534 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 534

البخارى- جلد ا ۵۳۴ - كتاب الصلوة ہڈیاں میں نے خود دیکھی ہیں اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنی دعاؤں میں ان ہڈیوں سے بطور تبرک کے مدد لیتے تھے۔سب سے بڑا اگر جہ جو بیت المقدس میں ہے اور جسے کنیسہ القیامہ کہتے ہیں اس میں مسیح کی وہ قبر ہے جس میں ان کو تین دن رکھا گیا تھا اور یہی قبر عیسائیوں کی طواف گاہ ہے۔ایام ایسٹر اور کرسمس میں اس کا با قاعدہ طواف کیا جاتا ہے اور وہاں حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم صدیقہ کے نیز دوسرے قدوسیوں کے بت ہیں۔جن کے سامنے سجدے بجالائے جاتے ہیں اور میں نے ان کی یہ عبادتیں خود دیکھی ہیں۔یہودیوں میں بھی قبر پرستی کا وہی حال تھا جو آج کل مسلمانوں میں رائج ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔خدا تعالی کی عجیب شان ہے کہ جس خوف اور گھبراہٹ کا اظہار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت نزع کی گھڑیوں میں فرمایا تھا آخر وہی ہوا۔اس قسم کی انذاری تنبیہات کی وجہ سے صحابہ کرائم گرجوں میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔عنوان باب میں حضرت عمرؓ کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ دمشق کا واقعہ ہے۔تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو قسطنطین نے جو عیسائی امراء شام میں سے تھا دعوت دی۔حضرت عمرؓ نے گرجا میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۸۸) حضرت عمرؓ کے بالمقابل حضرت ابن عباس کے ایک عمل درآمد کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے یہ دونوں حوالے دے کر روایت نمبر ۴۳۴ پیش کی ہے اور بتلایا ہے کہ ان کے گرجے در حقیقت انسان پرستی کے گھر ہیں۔اس سے کم از کم اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے گرجوں اور معبدوں کے متعلق نفرت کا اظہار فرمایا جن میں بزرگوں کی کسی نہ کسی رنگ میں پوجا کی جاتی ہو۔حضرت عمرؓ کا فعل بھی اسی نفرت کے احساس کے ماتحت تھا۔باب ٥٥ ٤٣٥ - ٤٣٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ۴۳۶-۴۳۵ : ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِي شعیب نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے زہری سے روایت أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ کی کہ عبد اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھ کو خبر دی کہ أَنَّ عَائِشَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَا لَمَّا حضرت عائشہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس دونوں نے نَزَلَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت طَفِقَ يَطْرَحُ حَمِيْصَةً لَّهُ عَلَى وَجْهِهِ نے سخت حملہ کیا تو آپ اپنے منہ پر اپنی چادر ڈالتے فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ اور جب آپ گھبراہٹ محسوس کرتے تو اپنے چہرے وَهُوَ كَذَلِكَ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْيَهُودِ سے اس کو ہٹا دیتے اور آپ نے اسی حالت میں فرمایا: وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ یہود اور نصاری پر اللہ کی لعنت۔انہوں نے اپنے نبیوں