صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lix
صحيح البخارى ۳۹ دیباچه جس کے لئے غیر معمولی فراغت اور محنت چاہیے۔غرض اس جستجو اور جدوجہد نے مجھے اس امر پر علی وجہ البصیرت قائم کر دیا ہے کہ امام محمد بن اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ کی صحیح بخاری جیسا کہ جامع احادیث مستندہ ہے، ایسا ہی وہ صحیح علم فقہ وعلم کلام کی بھی جامع ہے اور میں اپنے اندر مسرت و اطمینان کے جذبات پاتا ہوں کہ عین اس وقت جبکہ مجھے اس دیباچہ کے لکھتے وقت اپنے مزید اطمینان کی خاطر کتابوں کی ورق گردانی کرنی پڑی تو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی امام ( ابن حجر ) عسقلانی علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ کے ایسے حوالہ جات مل گئے ہیں جن سے اس رائے کی تائید ہوتی ہے۔جامع صحیح مسند کا اصل موضوع : چنانچ امام احمد ابن حجر عسقلانی فتح الباری کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ صحیح بخاری کا اصل موضوع صحیح احادیث پیش کرنا ہے۔جیسا کہ خود اس کے نام سے ظاہر ہے اور جیسا کہ بعض نے امام بخاری کی طرف منسوب کرتے ہوئے ان کی اس غرض و غایت کے متعلق ایک روایت بھی نقل کی ہے۔مگر اس کے ساتھ امام موصوف نے یہ بھی مناسب سمجھا کہ فقہی مسائل اور حکیمانہ نکات سے اپنی اس کتاب کو خالی نہ رکھیں۔اس لئے انہوں نے اپنی سمجھ سے کام لیتے ہوئے متن حدیث سے بہت سے معانی کا استنباط کیا اور ان معانی کو موقع محل کی مناسبت سے مختلف بابوں میں شامل کر دیا ہے۔نیز اس کے ساتھ یہ اہتمام بھی کیا ہے کہ احکام کے بارے میں متعلقہ آیتوں سے نئے نئے استدلال کئے ہیں اور ان کی تفسیر میں وسعت سے کام لیا ہے۔حضرت شیخ محی الدین النووی فرماتے ہیں کہ امام بخاری کا مقصد صرف حدیثیں جمع کرنا ہی نہ تھا بلکہ ان سے احکام کا استنباط کرنا بھی ان کے پیش نظر تھا۔(مقدمة فتح البارى۔الفصل الثاني في بيان موضوعه۔صفحه۱) اور میں سمجھتا ہوں کہ مسائل کی تحقیق ان کے پیش نظر مقدم غرض تھی اور اسی لئے انہوں نے کتاب الایمان کو جو اصول عقائد سے متعلق ہے، کتاب العلم پر مقدم رکھا ہے جس کا موضوع علم حدیث ہے۔میں ابھی اس ضرورت کا ذکر کر چکا ہوں جس کی وجہ سے امام موصوف کو صحیح احادیث جمع کرنے کی خاطر تگ و دو کرنی پڑی۔مختلف مذاہب ان کے زمانہ میں پیدا ہو چکے تھے اور فقہاء متکلمین کی موشگافیوں نے عقائد اور احکام شریعت کو چھلنی کر دیا ہوا تھا۔لاکھوں حدیثیں ہر مذہب کی تائید میں وضع ہو گئیں۔صرف ایک عبدالکریم نامی شخص نے چار ہزار روایتیں اپنی طرف سے بنائیں اور آخر اپنے اس گناہ عظیم کا اقرار کیا۔امام ابن جوزی اور علامہ ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہا نے ان واضعین احادیث کے حالات لکھے ہیں۔و ہب ابن وہب قاضی جو ا ا ھ میں فوت ہوا اور ابراہیم بن بھی جس کی کذب بیانی کا امام مالک نے بھی ذکر کیا ہے۔( یہ ۱۴ ھ میں فوت ہوا) مقاتل محمود بن سعید مصلوب زندیق جو ایک سو ناموں سے مشہور ہے اور جس نے احادیث وضع کرنے میں حد درجہ جھوٹ سے کام لیا اور وہ اس وجہ سے ابو جعفر کے حکم سے سولی دیا گیا۔مقاتل بن سلیمان محمد بن عمر واقدی ( ۱۳۰ تا ۲۰۷ ھ ) اور ان جیسے اور بہت سے دروغ باف راویوں نے دوسری صدی کے اواخر اور تیسری صدی کے اوائل میں جھوٹی روایتوں کا ایک طومار عظیم پھیلا دیا تھا اور اس پر مزید مصیبت وہ جو مختلف مذاہب نے بر پا کر رکھی تھی۔پس