صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page vi
۵ - جماعت احمد یہ میں علم حدیث کی ترویج : - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات اور عملی نمونہ کی اتباع میں جماعت احمد یہ میں قرآن کریم کے بعد حدیث کو افراط و تفریط سے بچ کر اس کا صحیح مقام دیا گیا ہے۔ خاص طور پر صحیح بخاری کے درس و تدریس کا سلسلہ تو حضرت خلیفہ المسیح الاول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی شروع فرمایا تھا اور اپنی وفات سے پہلے جو وصیت تحریر کروائی تھی اس میں لکھا تھا: قرآن اور حدیث کا درس جاری رہے ۔ (۴) مارچ ۱۹۱۴ء) آپ کو اس بات کا بہت احساس تھا کہ صحیح بخاری کا ترجمہ اور ضروری مقامات کی تشریح جماعت کی طرف سے شائع ہو۔ ایک دفعہ صحیح بخاری کے درس کے دوران فرمایا:- جو تر جمہ صحیح بخاری درس حدیث میں احباب کے سامنے ہوتا ہے وہ ترجمہ مولوی وحید الزمان کا ہے جو لاہور اور امرتسر میں چھپا ہے۔ اس کا اشتہار اخبار بدر میں بھی ہوتا ں ہوتا ہے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے اس کے سوائے اور کوئی ترجمہ بین السطور نہیں ہے۔ مولوی وحید الزمان سلسلہ کا سخت دشمن ہے اور اس نے جابجا اپنے حاشیہ میں خواہ مخواہ ہم کو گالیاں دی ہیں۔ لیکن جب تک وہ وقت نہ آجائے کہ ہمارے اپنے ترجمے اور حاشیے چھپیں تب تک ایسا نہیں ہو سکتا کہ ان لوگوں کی گالیوں سے ڈر کر بخاری کے ترجموں کو پڑھنا چھوڑ دیں ۔ اصل بخاری اور اس کے ترجمہ میں تو کوئی دخل ہی کیا دے سکتا ہے باقی رہے حواشی سوخُذْ مَا صَفَا وَدَعْ مَا كَدَرَ پر عمل کرنا چاہیے۔ بدری اگست ۱۹۱۳ء درس حدیث صحیح بخاری صفحه ۶) حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے صحیح بخاری در ستا حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ سے پڑھی تھی۔ آپ کو بھی باوجود اپنی گوناں گوں مصروفیات کے اس ضرورت کا بہت احساس تھا کہ جماعت میں بھی باوجود اپنی کا حدیث کی تعلیم عام ہو۔ چنانچہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۲۶ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جامع صحیح بخاری کے ترجمہ اور تشریح کا کام حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا تو فرمایا: کہ بہت سے ضروری کام ہیں جو کرنے کے ہیں۔ مگر ان کی طرف توجہ نہیں۔ مثلا صحیح بخاری کے ترجمہ اور اس کی شرح کا کام بھی نہایت ضروری اور اہم ہے۔ اگر ہم نے نہ کیا تو ان لوگوں سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔ جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہنے کا موقع نہیں ملا اور جو آپ کے فیضان سے براہ راست مستفیض نہیں ہوئے۔ غیروں کے تراجم اور حواشی رہ جائیں گے اور پھر جواناپ شناپ لکھا ہوا ہوگا اسی پر دار و مدار ہوگا اور پھر بعد از وقت اعتراضوں کو دیکھ کر ادھرا دیباچہ جلد ہذا صفحه ۴۷) کے جوابوں کی سوجھے گی۔ ادھر حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے حضرت خلیفة المسیح الثانی کے ارشاد کی تعمیل میں صحیح بخاری کے ترجمہ و شرح پر کام شروع کر دیا۔ لیکن ۱۹۲۶ء سے ۱۹۴۷ء تک کا عر، ۱۹۲۶ء سے ۱۹۴۷ء تک کا عرصہ جماعت احمدیہ کا انتہائی ہنگامہ خیز دور تھا۔