صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page v
حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی جامع صحیح کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ تسلیم کرنے کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے مقابل پر صحیح بخاری اور مسلم کے بارہ میں تحریر فرمایا ہے:۔الغرض میرا مذہب یہی ہے کہ البتہ بخاری اور مسلم کی حدیثیں ظنی طور پر صحیح ہیں مگر جو حدیث صریح طور پر ان میں سے مبائن و مخالف قرآن کریم کے واقع ہوگی وہ صحت سے باہر ہو جائے گی۔آخر بخاری اور مسلم پر وحی تو نازل نہیں ہوتی تھی۔الحق مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۵) امام بخاری اور مسلم کی عظمت شان اور ان کی کتابوں کا امت میں قبول کیا جانا اگر مان بھی لیا جائے تب بھی اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ وہ کتا بیں قطعی اور یقینی ہیں کیونکہ امت نے ان کے مرتبہ قطع اور یقین پر ہرگز ا جماع نہیں کیا۔نیز تحریر فرمایا :- الحق مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۹۸) اگر کوئی حدیث نصوص بینہ قطعیہ صریح الدلالت قرآن کریم سے صریح مخالف واقع ہو گو وہ بخاری کی ہو یا مسلم کی میں ہرگز اس کی خاطر اس طرز کے معنی کو جس سے مخالفت قرآن لازم آتی ہے قبول نہیں کروں گا۔(الحق مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ صفحه۱۰۰) بخاری کتاب الطب باب السحر میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا۔جس کے نتیجہ میں نعوذ باللہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یادداشت متاثر ہوگئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے جب اس کا ذکر کیا گیا تو حضور نے فرمایا :- آنکھ بند کر کے بخاری اور مسلم کو مانتے جانا یہ ہمارے مسلک کے برخلاف ہے۔یہ تو عقل بھی تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایسے عالی شان نبی پر جادو اثر کر گیا ہو معلوم ہوتا ہے کہ کسی خبیث آدمی نے اپنی طرف سے ایسی باتیں ملادی ہیں۔گو ہم نظر تہذیب سے احادیث کو دیکھتے ہیں لیکن جو حدیث قرآن کریم کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کے برخلاف ہو اس کو ہم کب مان سکتے ہیں۔اُس وقت احادیث جمع کرنے کا وقت تھا گو انہوں نے سوچ سمجھ کر احادیث کو درج کیا تھا۔مگر پوری احتیاط سے کام نہیں لے سکے۔وہ جمع کرنے کا وقت تھا لیکن اب نظر اور غور کرنے کا وقت ہے۔آثار نبی جمع کرنا بڑے ثواب کا کام ہے لیکن یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جمع کرنے والے خوب غور سے کام نہیں لے سکتے۔اب ہر ایک کو اختیار ہے کہ خوب غور اور فکر سے کام لے جو ماننے والی ہو وہ مانے اور جو چھوڑنے والی ہو وہ چھوڑ دے۔( ملفوظات جلد ۵ صفحه ۳۴۹٬۳۴۸)