صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 530
البخارى- جلد ا ۵۳۰ - كتاب الصلوة بَابِ ٥١: مَنْ صَلَّى وَقُدَّامَهُ تَنُوْرٌ أَوْ نَارٌ أَوْ شَيْءٍ مِّمَّا يُعْبَدُ فَأَرَادَ بِهِ اللَّهَ جو شخص نماز پڑھے اور اس کے سامنے تنور یا آگ یا اُن چیزوں میں سے کوئی چیز ہو جن کی عبادت کی جاتی ہے اور وہ اپنی نماز سے اللہ عزوجل کی ہی رضامندی) چاہے وَقَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي أَنَسٌ قَالَ قَالَ اور زہری کہتے تھے کہ حضرت انس بن مالک) نے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَتْ مجھے بتایا۔کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگ عَلَيَّ النَّارُ وَأَنَا أُصَلِّي۔میرے سامنے کی گئی اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔٤٣١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۴۳۱ : ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا: انہوں عَنْ مَالِكِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ نے مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے ابْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ قَالَ عطاء بن سیار سے۔عطاء نے حضرت عبد اللہ بن انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ عباس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: سورج گرہن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أُرِيْتُ ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔پھر النَّارَ فَلَمْ أَرَ مَنْظَرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفْطَعَ فرمایا: مجھے آگ دکھائی گئی۔میں نے آج جیسا بھیا نک نظارہ کبھی نہیں دیکھا۔اطرافه : ۲۹ ، ٧٤۸ ، ۱۰۵۲، ۳۲۰۲، ۵۱۹۷ تشریح: کہ اگر کوئی نماز ہواور عنوان باب من سے شروع کر کے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ گر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہواور اتفاق اس کے سامنے آگ وغیرہ ایسی اشیاء ہوں جن کی عبادت کی جاتی ہے مگر نماز میں اُس کا دھیان محض اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو ایسی حالت میں اس کی نماز جائز ہوگی یا نہیں؟ اس باب کا مقصد مطلق فتویٰ جواز کی بحث نہیں بلکہ شخصی حالات کو مد نظر رکھ کر سوال اُٹھایا ہے۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں حضرت انس کا حوالہ یہ شبہ دور کرنے کے لیے دیا ہے کہ آگ آپ کو نماز سے قبل یا بعد نہیں دکھائی گئی تھی بلکہ نماز پڑھنے کی حالت میں۔الفاظ أُرِيتُ النَّار کی بناء پر بعض نے کہا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ آپ نے آگ کا نظارہ مین سامنے دیکھا ہو۔بلکہ دائیں یا بائیں دیکھنے کی وجہ سے بھی یہ جملہ بولا جاسکتا ہے۔مگر عُرِضَت کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نظارہ سامنے دیکھا گیا۔نیز حضرت انس بن مالک کی روایت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : فِي قِبْلَةِ هَذَا الْجِدَارِ۔كتاب الأذان باب 91: رفع البصر الى الإمام فی الصلوة نمبر (۷۴۹) یہی وجہ ہے کہ عنوانِ باب میں لفظ قُدَّامَہ بطور تشریح اختیار کیا گیا ہے۔کتاب العلم باب ۲۴: من اجاب الفتيا بإشارة۔حدیث نمبر ۸۶ کی تشریح بھی دیکھئے۔