صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 531 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 531

البخاری جلد ا ۵۳۱ - كتاب الصلوة یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ نظارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کی بات نہ تھی کہ اس سے مذکورہ بالا استدلال کیا جاسکے۔یہ درست ہے اور یہی وجہ ہے کہ امام موصوف نے اس سے استدلال کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے۔کیونکہ اگر کوئی شخص آگ یا مورتیوں وغیرہ کی طرف قصد امنہ کر کے نماز پڑھتا ہو تو اس کا یہ فعل کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوگا۔مذکورہ بالا باب کا مفہوم اور زیر بحث مسئلہ تب ہی واضح طور پر ثابت ہوتا ہے۔جب ایسے واقعہ سے استدلال کیا جائے جس سے اپنے ارادے اور اختیار کے ساتھ اُن چیزوں کی طرف منہ کرنے کا ثبوت نہ ملتا ہو۔اس لیے شارحین کے اعتراضات بودے ہیں۔وَقَالَ الزُّهُرِيُّ۔۔۔به روایت کتاب مواقيت الصلوة باب ۱۱ نمبر ۵۴۰ میں ملاحظہ ہو۔اور حضرت ابن عباس کی روایت نمبر ۴۳۱ کے لیے دیکھئے: کتاب الایمان باب ۲۱ کفران العشير روایت نمبر ۲۹ نیز کتاب الاذان۔باب ۹۱ : رفع البصر الى الامام في الصلوة۔روایت نمبر ۷۴۸ باب ٥٢: كَرَاهِيَةُ الصَّلَاةِ فِي الْمَقَابِرِ مقبروں میں نماز پڑھنے کی کراہیت ٤٣٢: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۴۳۲ ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: جی نے يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عبید اللہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔انہوں عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: نافع نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے وَسَلَّمَ قَالَ اجْعَلُوْا فِي بُيُؤْتِكُمْ مِنْ حضرت ابن عمر سے، حضرت ابن عمر نے نبی صلی اللہ صَلَاتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْهَا قُبُوْرًا۔علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: تم اپنے گھروں میں بھی کچھ نمازیں پڑھا کرو اور انہیں طرفه: ۱۱۸۷۔تشریح: قبریں مت بناؤ۔روایت نمبر ۴۳۲ سے استدلال بالکل نئی طرز کا ہے۔گھروں میں نماز نہ پڑھنا گویا انہیں مقبرہ بنانا ہے جہاں نمازیں نہیں پڑھی جاتیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد دراصل روحانی مُردگی کی طرف اشارہ کرنا ہے اور امام بخاری نے بھی کراہیت کا لفظ بڑھا کر اپنے استدلال میں فقہی احتیاط سے کام لیا ہے اور جیسا کہ امام ابن حجر ” کا خیال ہے کہ انہوں نے ترندی وغیرہ کی روایتوں کو مد نظر رکھ کر یہ باب قائم کیا ہے جن میں مقبرے اور حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔چونکہ وہ روایتیں امام موصوف کی شرط کے مطابق نہ تھیں اس لیے اس حدیث سے یہ بار یک استدلال کیا ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۸۵)