صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 529 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 529

صحيح البخاری جلد ا ۵۲۹ - كتاب الصلوة از حد خیال رکھتے تھے۔ بحالت مجبوری جب باڑہ میں آپ کو نماز پڑھنی پڑی تو یقیناً آپ نے و آپ نے وہاں صاف ستھری جگہ میں ہی پڑھی ہوگی۔ آپ کی عادت تھی کہ جہاں نماز کا وقت ہو جاتا آپ کو ہیں صاف جگہ دیکھ کر نماز پڑھ لیتے ۔ امام شافعی کا فتوئی اس بارے میں ضرورت سے زیادہ سخت اور آسانی اور سہولت کے سد راہ ہے۔ وہ ان جگہوں کو بوجہ پیشاب اور گوبر سے ملوث ہونے کے احتمال کی بناء پر نا پاک قرار دیتے اور اس میں نماز پڑھنا نا جائز سمجھتے ہیں ۔ باب ٥٠: الصَّلَاةُ فِي مَوَاضِعِ الْإِبِلِ اونٹوں کی جگہ میں نماز پڑھنا ( فتح الباری جزء اول صفحه ۶۸۲) ٤٣٠ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۴۳۰ : ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سلیمان بن حیان نے ہمیں بتلایا، کہا: عبید اللہ نے حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ رَأَيْتُ نافع سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا، کہا: ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي إِلَى بَعِيْرِهِ وَقَالَ رَأَيْتُ میں نے حضرت ابن عمر" کو اپنے اونٹ کے پاس نماز النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ۔ پڑھتے ہوئے دیکھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے نبی طرفه ٥٠٧ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایسا کرتے دیکھا۔ ابوداؤد، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہم نے اُونٹوں کے بیٹھنے وغیرہ کی جگہوں میں نماز پڑھنے کی ممانعت کے متعلق کچھ روایتیں نقل کی ہیں اور اس کی وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اونٹوں کو شیطان قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اس بارے میں حضرت عبداللہ بن مغفل کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيْاطِينِ۔ (ابن ماجه۔ کتاب المساجد باب الصلاة فى أعطان الإبل) امام بخاری اس باب کے ذیل میں جو روایت لائے ہیں اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے سامنے نماز پڑھا کرتے تھے۔ مگر امام موصوف اس سے ضمناً مشار الیہا روایات کو رد کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ شیطان کو سامنے رکھ کر نماز نہیں پڑھی جاتی ۔ چونکہ وہ روایتیں امام موصوف کی شرائط صحت و اعتبار کے مطابق نہ تھیں۔ اس لیے انہیں نظر انداز کر دیا ہے۔ انہوں نے جہاں یہ روایتیں رد کی ہیں۔ وہاں ضمنا یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ کتاب الوضوء باب ۶۶ روایت نمبر ۲۳۳، ۲۳۴ میں اس مسئلہ کی بحث گزر چکی ہے۔ اس لیے یہاں مختصراً اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (مسلم۔ كتاب الحيض ۔ باب الوضوء من لحوم الإبل (ابوداؤد۔ كتاب الصلوة۔ باب النهي عن الصلاة في مبارك الإبل) (ترمذى كتاب الصلاة باب ماجاء في الصلاة في مرابض الغنم و أعطان الإبل) (نسائی، کتاب المساجد ۔ باب ذكر نهي النبي عن الصلاة في أعطان الإبل)