صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 528
صحيح البخاری جلد ا ۵۲۸ - كتاب الصلوة فَأَمَرَ النَّبِيُّ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتُ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشار الیہ قبرستان مالکوں کی اجازت سے مسجد کے لئے درست کروایا ۔ عذاب قبر کے متعلق روایت نمبر ۸۶ و ۲۱۶ میں بھی کچھ ذکر آچکا ہے۔ اگر وہ روایتیں اس روایت کے ساتھ رکھ کر دیکھی جائیں تو واضح ہو جائے گا کہ عذاب قبر کا جو ذکر احادیث میں آتا ہے اس سے مراد یہ قبریں نہیں۔ ورنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا ضرور خیال رکھتے کہ ان قبروں کے اکھاڑنے سے ان میں سلسلہ عذاب منقطع ہو جائے گا۔ دراصل یہ خیال بے بنیاد ہے کہ ان قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ عذاب کے لئے ایک اور عالم ہے جو عالم ارواح ہے۔ اور جب اہل اللہ کو اس عذاب کے نظارے دکھلائے جاتے ہیں تو وہ نظارے بھی اس دنیا کے ماحول کے ماتحت ہی ہوتے ہیں۔ ورنہ اُن کا تعلق دراصل ایک اور عالم سے ہوتا ہے مگر جب وہ کیفیات اس عالم میں منتقل ہوتی ہیں تو وہ اس عالم کا لباس پہن لیتی ہیں۔ اور انسانی ذہن اور زبان کے لئے سوائے اس کے اور چارہ ہی نہیں کہ وہ اپنے تصورات کے لباس کے ماسوا اور اپنی مخصوص ادائے تعبیر کے بغیر کسی اور صورت و شکل میں ان کیفیات کا تصور کر سکے یا اُن کو ادا کر سکے۔ الله وَالنَّبِيُّ عَلا مَعَهُمُ : آپ آپ نے نے جب جب بھی صحابہ کو کسی کام کے کرنے کا حکم دیا تو خود اُن کے ساتھ ہو کر آپ آ۔ نے وہ کام کیا۔ اس بارے میں آپ کا یہ عمل آپ کے اس ارشاد کے ساتھ ملاحظہ ہو جس کا ذکر روایت نمبر ۳۰ میں گزر چکا ہے۔ آپ کی حیثیت ایک سردار اور آقا کی تھی۔ مگر آپ نے ادنی ادنی کام کرنے سے بھی اپنے آپ کو کبھی بالا نہیں سمجھا۔ یہ وہ پاک نمونہ تھا جس کی وجہ سے صحابہ کرام آپ کے گرویدہ تھے۔ باب ٤٩ : الصَّلَاةُ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ بکریوں کے باڑہ میں نماز پڑھنا ٤٢٩ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۴۲۹ : ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو تیاح سے۔ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابوتیاح نے حضرت انس بن مالک) سے روایت وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ کی ۔ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑہ میں سَمِعْتُهُ بَعْدُ يَقُولُ كَانَ يُصَلِّي فِي نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر میں نے انہیں بعد میں یہ مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ کہتے ہوئے سنا کہ مسجد بنوائے جانے سے پہلے آپ بکریوں کے باڑہ میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ اطرافه ٢٣٤ ، ٢٨ ، ١٨٦٨، ۲۱۰٦، ۲۷۷۱، ۲۷۷۴، ۲۷۷۹، ۳۹۳۲ ی اس قسم کی روایتوں کی بنا پر یہ بج اٹھانا کہ بکریوں کا پیشاب ناپاک ہے یا پاک نہایت بھونڈا قیاس ہے بحث یہ سے گرانا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فطر فطرت پاک تھی اور آپ پاکیزگی اور صفائی کا اور وا۔