صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 527
صحيح البخاری جلد ا ۵۲۷ - كتاب الصلوة وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللهِ فَقَالَ کریں گے۔ حضرت انس نے کہا: جو بات میں تمہیں أَنَسٌ فَكَانَ فِيْهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ قُبُورُ بتلاتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس میں مشرکوں کی قبریں تھیں کھجوریں الْمُشْرِكِيْنَ وَفِيْهِ خَرِبٌ وَفِيهِ نَخْلُل اور اس میں کچھ کھنڈرات تھے اور اس میں کچھ ھور فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُوْرِ تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کی قبروں کے متعلق حکم دیا تو ان کو کھود کر ہڈیاں وغیرہ نکال دی الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ ثُمَّ بِالْخَرِبِ گئیں۔ پھر کھنڈرات کے متر نڈرات کے متعلق حکم دیا اور وہ برابر کہ فَسُرِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُوْا دیے کر گئے اور کھجوروں کے متعلق حکم دیا اور وہ کائی گئیں النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوْا اور کھجور میں مسجد کے قبلہ کی طرف قطار میں کھڑی عِضَادَتَيْهِ الْحِجَارَةَ وَجَعَلُوْا يَنْقُلُوْنَ کر دیں اور اُس کی چوکھٹ پتھروں سے بنائی اور وہ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُوْنَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى پتھروں کو اُٹھا اُٹھا کر لانے لگے ۔ اور وہ شعر پڑھتے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُوَ يَقُوْلُ تھے اور ان کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی۔ آپ فرماتے تھے: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ اے اللہ ! بھلائی تو دراصل آخرت کی ہی بھلائی ہے فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَ الْمُهَاجِرَة سوتو انصار اور مہاجروں کی کمزوریوں پر پردہ پوشی فرمائیو اطرافه: ٢٣٤ ، ٤٢٩ ، ١٨٦٨ ، ۲۱۰۶، ۲۷۷۱، ۲۷۷۴، ۲۷۷۹، ۳۹۳۲۔ نے ان بابوں میں ایک لطیف ترتیب مد نظر رکھی ہے۔ پہلے گھروں میں مسجدیں بنانے کا ذکر کیا تشریح : امام بخاری نے ہے۔ پھر گھروں سے باہر ان جگہوں کے انتخاب کا جو کھنڈرات اور ویرانے ہیں۔ مسجدوں کے ساتھ ہی مجتمع بشری کی آبادی ہے۔ شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں کے ویرانوں کو آباد کرنے آئے تھے۔ شرک سے آپ کو حد درجہ نفرت تھی اور یہی ایک بلاء عظیم تھی جس نے آپ کی قوم کو اُٹھنے سے روکا ہوا تھا۔ اس لئے آپ نے شرک کے تمام آثار ملیا میٹ کر دئے ۔ یہودیوں کے متعلق بھی شدید نفرت کا اظہار اسی وجہ سے فرمایا۔ عیسائیوں میں بھی مردہ پرستی کی روح اب تک موجود ہے۔ آپ نے اپنی اُمت کو ہر قسم کے احتمال سے محفوظ رکھنے کے لئے احتیاطاً قبرستان میں نماز پڑھنے سے روک دیا ہے۔ اور آپ کی اس احتیاط کی منا پ کی اس احتیاط کی مثالیں آگے بہت ملیں گی۔ کلمہ شہادت کلمہ شہادت کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ کا اقرار جو رکھ دیا ہے وہ محض اس لئے کہ آپ کو دیگر انبیاء کی طرح خدائی صفات نہ دے دی جائیں۔ بستر مرگ پر آپ نے اپنی اُمت کے متعلق جس خوف کا اظہار کیا تھا وہ یہی تھا کہ کہیں آپ کی امت بھی دوسری قوموں کی تقلید کر کے آپ کو پوجنا نہ شروع کر دے۔ (دیکھئے باب ۵۵ روایت نمبر ۴۳۵)