صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 524
صحيح البخاری جلد ا ۵۲۴ - كتاب الصلوة تھا کہ وہ اپنے کسی صحابی کے متعلق اُس کی قربانی کو دیکھ کر یہ فتوی دیتے کہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جنھوں نے کلمہ شہادت کا اقرار اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کیا ہے اور جن پر آگ حرام ہو چکی ہے۔ مگر آج جب مسلمانوں کی حالت کیا بلحاظ عقائد اور کیا بلحاظ اعمال کے نا گفتہ بہ ہو رہی ہے آپ کے اس خاص اور مشروط فتوی کا بلا قید و شرط کے چسپاں کرنا کہاں تک درست ہے۔ خصوصًا جب واقعات اس فتوی کی پورے طور پر تکذیب کر رہے ہوں اور خود مسلمان اور ان کے نام نہاد راہنما بھی اعلان کر رہے ہوں کہ وہ مسلمان نہیں رہے۔ بیمار کو بیمار کہنا بہتر ہے تا وہ اپنی بیماری کے علاج کی فکر کرے۔ امت مرحومہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کون دردمند ہوگا ۔ کیا آپ نے انہی نام نہاد مسلمانوں کے لیے نہیں فرمایا تھا: لا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُه ۔۔۔ (شعب الايمان للبيهقي۔ الثامن عشر۔ فصل قال و ينبغي لطالب العلم ان يكون تعلمه للعالم ان يكون تعليمه لوجه الله تعالى جزء ۲ ۔ صفحه ۳۱۱۔ نمبر ۱۹۰۸) اس بحث کی تفصیل کے لیے شرح کتاب الایمان باب ۳۳، کتاب العلم باب ۳۳ اور ۴۹ دیکھئے۔ بَاب ٤٧: التَّيَمُّنُ فِي دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَغَيْرِهِ مسجد وغیرہ میں داخل ہوتے وقت دائیں طرف سے شروع کرنا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَبْدَأُ بِرِجْلِهِ الْيُمْنَى اور حضرت ابن عمرؓ اپنے دائیں پاؤں کو پہلے اندر فَإِذَا خَرَجَ بَدَأَ بِرِجْلِهِ الْيُسْرَى۔ رکھتے اور نکلتے تو اپنے بائیں پاؤں کو پہلے باہر رکھتے ۔ ٤٢٦ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۴۲۶ : ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اشعث بن سلیم سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مسروق ہے۔ مسروق نے حضرت عائشہ سے روایت يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ کی وہ کہتی تھیں کہ بی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک آپ فِي ظُهُورِهِ وَتَرَبُّلِهِ وَتَنَوُّلِهِ۔ سے ہو سکتا اپنے تمام کاموں میں یہی پسند کرتے کہ داہنی طرف سے پہل کی جائے ؟ اپنے نہانے اور کنکھی اطرافه: ١٦٨، ٥٣٨٠، ٥٨٥٤، ٥٩٢٦ حضرت کرنے اور جوتا پہننے ہیں۔ عائشہ کی روایت مذکورہ بالا عمومیت کا رنگ رکھتی ہے۔ چونکہ حضرت ابن عمرؓ کے متعلق یہ مشہور ہے تشریح: کہ ہر بات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کا انہیں بے حد شوق تھا اس لئے عنوانِ باب میں ان کے فعل