صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 523
صحيح البخاری جلد ا ۵۲۳ - كتاب الصلوة وَجْهَ اللَّهِ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّا چاہتا ہے۔ اس نے کہا: اللہ اور اُس کا رسول بہتر نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيْحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِيْنَ جانتے ہیں ۔ اُس نے کہا: ہم تو اُس کی توجہ اور اُس کی قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خیر خواہی منافقین کے لئے ہی دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یقینا اس شخص پر آگ حرام کر دی ہے جس نے لا الهَ إِلَّا إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ قَالَ ابْنُ الله کا اقرار کیا (بشرطیکہ ) وہ اس اقرار سے اللہ کی شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ رضا مندی چاہتا ہو۔ ابن شہاب نے کہا: پھر میں نے الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ حسين بن محمد انصاری سے جو سے جو کہ بنی سالم سے ایک سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ شخص تھے اور اُن کے سرداروں میں سے تھے؛ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ ۔ رت محمود بن ربیع کی حدیث کے متعلق پوچھا تو حضرت انہوں نے اس میں اُن کی تصدیق کی۔ إطرافه: ٤٢٤ ، ٦٦٧، ٦٨٦ ، ٨٣٨، ٨٤٠، 1186، 4009، 4010 ، 5401، ٦٤٢٣، 6938۔ تشریح : الْمَسَاجِدُ فِي الْبُيُوتِ : مجبوری کی حالت میں باجماعت نماز پڑھنے کے لئے گھرمیں مسجد بنانا جائز ہے۔ اگر مجبوری نہ ہو تو محلہ کی مسجد میں ہی نماز فریضہ پڑھنی چاہئے ۔ ہاں نوافل اپنے گھر میں پڑھ سکتا ہے۔ حضرت مالک بن دخیشن یا ابن وخشن ان انصار میں سے تھے جو جنگ بدر میں شریک ہوئے ۔ منافقین کی مشہور مسجد ضرار جلانے کے لئے جو دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۷۶ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں متہم کرنے والے کو منع فرمایا۔ کیونکہ آپ اُن کا اخلاص آزما چکے تھے۔ جس نے اُن کو متہم کیا ہے اس نے غالباً منافقوں کے ساتھ اُن کے ظاہری میل جول دیکھ کر جلد بازی سے کام لیا۔ اس لئے اس نے اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کی جو مقام ادب کے تقاضا کے عین مطابق ہے۔ ا رف سے جو قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ : اس سے صرف زبانی اقرار مراد نہیں بلکہ اس کے ساتھ دل کے اخلاص کی بھی ضرورت ہے۔ اس اخلاص کی طرف جملہ يَبْتَغِي بِذلِكَ وَجْهَ اللَّهِ اشارہ کرتا ہے۔ اخلاص پیدا ہونے کے بعد عمل خود بخود حتیز وجود میں آجاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن ذخشن کی طرف ۔ مدافعت فرمائی ہے وہ علی البصیرت اپنے تجربہ کی بناء پر ہے۔ آج کتنے مسلمان ہیں جن کا زبانی اقرار کلمہ شہادت خلوص قلب پر مبنی ہے اور جنہوں نے اپنی مختلف نے اپنی مختلف قسم کی قربانیوں سے ا۔ کی قربانیوں سے اپنے اخلاص کا ثبوت دیا ۔ وت دیا ہے۔ حضرت ابن دح ابن دخشن بدر وغیرہ میں بالفعل شریک ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سرٹیفکیٹ پانے کا ایک جائز حق رکھتے تھے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شایاں