صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 522 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 522

البخارى جلد ا ۵۲۲ - كتاب الصلوة وَوَدِدْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَنَّكَ تَأْتِينِي خواہش ہے کہ آپ میرے پاس آئیں اور میرے گھر فَتُصَلِّي فِي بَيْنِي فَأَتَّخِذُهُ مُصَلَّى قَالَ میں نماز پڑھیں اور میں اُسے مسجد بنالوں۔کہتے تھے : فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا وَسَلَّمَ سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللهُ قَالَ عِتْبَانُ تو آؤں گا۔کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فَغَدًا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو بکر صبح جس وقت دن چڑھا؟ آئے اور وَأَبُو بَكْرٍ حِيْنَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مانگی۔میں نے آپ کو اجازت دی۔جب گھر میں آئے آپ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ بیٹھے نہیں ! فرمایا: تم اپنے گھر میں کہاں چاہتے ہو کہ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ قَالَ میں نماز پڑھوں؟ کہتے تھے۔میں نے گھر کے ایک أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ قَالَ طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا۔رسول اللہ ﷺے فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِّنَ الْبَيْتِ فَقَامَ (نماز کے لئے ) کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہی اور ہم بھی اور رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ کھڑے ہو گئے اور صف باندھ لی۔آپ نے دو فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ رکعت نماز پڑھی پھر سلام پھیرا۔کہتے تھے: ہم نے قَالَ وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيْرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ آپ کو حلیم کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے قَالَ فَتَابَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ تیار کیا تھا۔کہتے تھے، گھر میں محلہ کے چند آدمی ادھر اُدھر سے آگئے۔جب وہ اکٹھے ہو گئے تو اُن میں سے الدَّارِ ذَوُوْ عَدَدٍ فَاجْتَمَعُوْا فَقَالَ قَائِلٌ کسی کہنے والے نے کہا کہ مالک بن دخیشن یا ابن مِنْهُمْ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخَيْشِنِ أَوِ ابْنُ إِخْشَن کہاں ہے؟ تو ان میں سے کسی نے کہا: وہ تو الدُّخْشُنِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ ذَاكَ مُنَافِقٌ لَا منافق ہے۔اللہ اور اُس کے رسول سے محبت نہیں يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ رکھتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُلْ ذَلِكَ أَلا کہو۔کیا تم اُسے نہیں دیکھتے کہ اُس نے لا إله إلا تَرَاهُ قَدْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُرِيْدُ بِذَلِكَ اللَّه کا اقرار کیا ہے؟ اس سے اللہ کی رضا مندی ہی فتح الباری کے بعض نسخوں میں اس جگہ جنین کا لفظ لکھا ہوا ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۷۲) یہ ترجمہ اس لفظ کے قریب ہے۔