صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 521
صحيح البخاری جلد ا ۵۲۱ - كتاب الصلوة بعض نسخوں یا ں میں عنوان باب ہمزہ استفہام سے شروع ہوتا ہے۔ یعنی أَ يُصَلِّي حَيْثُ شَاءَ أَوْ حَيْثُ أُمِرَ ۔ یه همزه محذوف کر دیا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری جز ۴ صفحہ ۱۶۵) اسی لیے ترجمہ میں اس کو واضح کر دیا گیا ہے۔ مسئلہ اخذ کرنے کے لئے جو واقعہ پیش کیا گیا ہے وہ اگلی روایت میں بالتفصیل مذکور ہے۔ چونکہ حضرت عتبان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لئے بلایا تھا کہ اُن کے گھر میں کسی جگہ تیر کا نماز پڑھیں تا وہ بحالت مجبوری اپنے اپنے لوگوں کو وہیں نماز پڑھا دیا کریں اس لئے آپ نے اُن سے دریافت کیا۔ امام موصوف نے یہ واقعہ بیان کر کے قارئین کی عقل و سمجھ پر مسئلہ کا دارو مدار رکھا ہے کہ وہ موقع ومحل کے مطابق عمل کریں۔ ممکن تھا کہ آپ کسی ایسی جگہ نماز پڑھتے جہاں لوگوں کے اکٹھا ہونے سے گھر کی عورتوں کو تکلیف ہوتی اس لئے آپ نے اہل خانہ سے دریافت کرنا مناسب سمجھا۔ باب ٤٦: الْمَسَاجِدُ فِي الْبُيُؤْتِ گھروں میں مسجدیں وَصَلَّى الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ فِي مَسْجِدِهِ اور حضرت براء بن عازب نے اپنے گھر کی مسجد میں فِي دَارِهِ جَمَاعَةً۔ با جماعت نماز پڑھی۔ ٤٢٥ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ ۴۲۵ : ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتلایا۔ کہا: عقیل نے ابن شہاب سے شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ روایت کرتے ہوئے مجھ کو بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكِ وَهُوَ مِنْ حضرت محمود بن ربیع انصاری نے مجھ سے بیان کیا کہ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت عتبان بن مالک جو کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ وسلم کے ان انصاری صحابہ میں سے تھے جو بدر میں أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شریک ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ ! میری بینائی کمزور ہو گئی فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔ جب بارشیں وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِيْ فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ ہوتی ہیں تو اس نالہ میں جو میرے اور ان کے درمیان سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ لَمْ ہے سیلاب آجاتا ہے اور میں اُن کی مسجد میں آکر أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ انہیں نماز نہیں پڑھا سکتا اور یا رسول اللہ! میری