صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 520
صحيح البخاری جلد ا ۵۲۰ - كتاب الصلوة باب ۴۳ - ۴۴ کے ذیل میں امام بخاری نے دو لمبی روانین دولمبی روایتیں جن کا مفصل ذکر آگے آئے گا مختصر نقل کر کے ریا سے بات کرنے کا جوا بات کی ہے جن کاتعلق تمامی منا کے ساتھ ہے تم دعوت کے سوا اور ہے۔ منا کا پیغام دینا، جھگڑوں کا تصفیہ، نمائندوں وغیرہ کا استقبال کرنا۔ یہ باتیں آداب مسجد کے منافی نہیں۔ مسجد در حقیقت مسلمانوں کے لئے ایک اجتماعی مرکز ہے جہاں ان کے روحانی تزکیہ کے کام ہی نہیں بلکہ ان کے معاشرتی اور تمدنی ہر قسم کی بہتری کے کام کئے جاسکتے ہیں۔ جاسکتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور آپ کے بعد مجلس شوری کا انعقاد مسجد با شوری کا انعقاد مسجد میں ہی ہوا کرتا تھا۔ بلکہ مسلمانوں نے بعد میں مسجدیں بطور دینی اور تبلیغی مرکز کے بھی استعمال کی ہیں۔ مسلمان اب اس امر سے غافل ہو گئے ہیں۔ انہیں پھر از سر نو ان قلعوں پر اپنا مستحکم قبضہ صحیح معنوں میں جمالی جما لینا چاہیے۔ روایت نمبر ۴۲۳ میں جس لعان کا ذکر ہے اس کی یہ صورت ہے کہ اگر مرد اپنی بیوی کو زنا سے متہم کرے اور اس کے پاس شہادت نہ ہو تو ہر ایک اپنی اپنی صداقت پر قسم کھا کر جھوٹے پر لعنت کرے۔ اس کی تفصیل کتاب اللعان (کتاب الطلاق باب التلاعن في المسجد : ۵۳۰۹) میں دیکھئے۔ باب ٤٥ : إِذَا دَخَلَ بَيْتًا يُصَلِّي حَيْثُ شَاءَ أَوْ حَيْثُ أُمِرَ وَلَا يَتَجَسَّسُ جب کوئی کسی گھر میں داخل ہو تو کیا جہاں چاہے نماز پڑھے یا جہاں اُسے کہا جائے اور تجسس نہ کرے؟ ٤٢٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۴۲۴ : ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتلایا ۔ انہوں نے ابن شِهَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ شہاب سے ، ابن شہاب نے محمود بن ربیع سے، محمود عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله نے حضرت عتبان بن مالک سے روایت کی کہ نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَقَالَ أَيْنَ اللهُ اُس کے پاس اُس کے گھر میں آئے تو آپ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ مِنْ بَيْتِكَ قَالَ نے فرمایا: تم کہاں چاہتے ہو کہ میں تمہارے گھر میں فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى مَكَانٍ فَكَبَّرَ النَّبِيُّ تمہارے لئے نماز پڑھوں۔ (عتبان) کہتے تھے: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ میں نے آپ کو ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ اور نبی فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ۔ صلى الله علوم نے تکبیر کہی اور ہم آپ کے پیچھے صف صف بسته کھڑے ہو گئے ۔ اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ اطرافه: ٤٢٥ ، ٦٦٧، ٦٨٦، ٨٣٨، ٨٤٠، 1186 ، 4009 ، 4010، 5401، 6413، ٦٩٣٨