صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page lviii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lviii

صحيح البخاري ۳۸ دیباچه محنت کے ثمرات بیان کرنے میں مبالغہ سے کام لیں؛ اتنا ہی حقیقت حال کے پیش نظر کم ہے اور جتنا ہم ان کے احسان کے شکر گزار ہوں اتنا ہی وہ اس کے مستحق ہیں ۔ فَجَزَاهُمُ اللَّهُ عَنَّا خَيْرَ الْجَزَاءِ موجودہ شرح کا نصب العین سے کر اس دیباچہ میں مجھے بعض ضروری باتیں عرض کرنی ہیں جن کا تعلق صحیح بخاری کے مقاصد سمجھنے میں نہایت گہرا ہے۔ جب میں اس کتاب کے ترجمہ سے فارغ فارغ ہوا ہوا تو تو م میرے ذہن پر نامعلوم طور سے یہ خفی اثر تھا کہ یہ کتاب علم فقہ اور علم کلام کی ہے نہ کہ مجرد احادیث کی۔ میں نہیں جانتا کہ یہ اثر میرے دماغ پر کیوں مستولی ہوا۔ بالکل ممکن ہے کہ احادیث کی اسانید اور اس کے متعلقات سے میری قطعی لاعلمی اس کی اصل وجہ ہو جس نے میرے ذہن کو اس کتاب کی اس قدر و منزلت سے ہٹائے رکھا جو محدثین کے نزدیک اسے حاصل ہے اور اس ذہنی مناسبت کی وجہ سے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیضان عمیم کے طفیل ایک نئی قسم کے علم کلام میں ہمارے ذہنوں کو حاصل ہے، مخفی طور پر ذہن نے یہ اثر خود بخود غیر مشہود طریق پر اخذ کیا ہو۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ایک دن اپنے اس تاثر اور اپنی مجمل رائے کا ذکر محترم مولانا مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل استاد جامعہ احمدیہ سے کیا۔ انہوں نے اپنی عادت کے مطابق ہنستے ہوئے جلدی سے کہا: اچھا آپ کا بھی یہ خیال ہے۔ میں نے مثبت میں جواب دیا۔ فرمانے ۔ نے مثبت میں جواب دیا۔ فرمانے لگے: میرا بھی یہی خیال ہے کہ احادیث سے بڑھ یہ کتاب فقہ وعلم کلام کی ہے۔ ان کے اس قول سے جرات حاصل کرتے ہوئے میں نے ا۔ میں نے اپنے اسی خیال کے ماتحت اس کتاب کی شرح لکھنی شروع کی۔ ایک طرف ابواب کے عنوانوں اور ان کے ماتحت مندرجہ حوالوں اور اشاروں اور بابوں اور روایتوں کی ترتیب پر نظر رکھی اور اس میں مجھے فتح الباری ( مصنفہ علامہ ابن حجر ) اور عمدۃ القاری ( مصنفہ علامہ عینی ) سے بہت کچھ بدلتی گئی اور دوسری طرف اس کے ساتھ ان ائمہ مذاہب کے اختلافات کو علامہ ابن رشد کی بداية المجتهد کی مدد سے اپنے سامنے رکھا جو امام بخاری سے پہلے اپنے مذہب کی بنیاد ڈال چکے تھے۔ ایسا ہی کتاب الملل والنحل کو بھی مطالعہ میں رکھا۔ جس کی مدد سے مختلف فرقوں کی تاریخ اور ان کی بدعتیں میری نظر کے سامنے رہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے سابقہ خیال کو جسے مولوی صاحب موصوف کی سب سے پہلے تائید حاصل ہوئی تھی، تقویت ہوتی گئی اور میں نے جامع صحیح مسند بخاری کے بابوں اور اس کی ترتیب میں پر حکمت معارف کو نہایت ہی خوبصورت شکل وصورت میں منظوم و مرتب پایا۔ جوں جوں اس کی شرح لکھتا گیا توں توں میرا یقین بڑھتا چلا گیا کہ یہ کتاب ایسی نہیں کہ اسے سرسری نظر سے پڑھا اور سمجھا جائے بلکہ اس کے سمجھنے کے لئے ایک کافی ذخیرہ معلومات کا مہیا کرنا از بس ضروری ہے امام مالک بن انس (۹۳ - ۱۸۹) امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت (نه - ۱۵۰ھ) امام محمد بن ادریس شافعی (۱۵۰ ۲۰۴ھ) امام احمد بن حنبل (۲۴۱۶۴) امام محمد بن اسماعیل بخاری (۱۹۴-۲۵۶ھ)