صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 518 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 518

البخارى جلد ا ۵۱۸ - كتاب الصلوة فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ قَالَ لَا فَتَقَرَ مِنْهُ ثُمَّ رکھ دیں۔فرمایا: نہیں۔اس پر انہوں نے اس میں ذَهَبَ يُقِلُّهُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ اؤْمُرْ سے کچھ نکال دیا۔پھر اسے اُٹھانے لگے۔( مگر اُٹھا نہ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ عَلَيَّ قَالَ لَا قَالَ فَارْفَعْهُ سکے ) تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! اِن میں سے کسی کو حکم دیجئے کہ اس کو مجھے اُٹھوا دے۔آپ نے فرمایا: أَنْتَ عَلَيَّ قَالَ لَا فَنَثَرَ مِنْهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ نہیں۔انہوں نے کہا: پھر آپ ہی اُٹھا کر مجھ پر رکھ فَأَلْقَاهُ عَلَى كَاهِلِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ فَمَا زَالَ دیں۔فرمایا نہیں۔اس پر انہوں نے اس میں سے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْبِعُهُ کچھ ( اور ) نکال دیا۔پھر اُسے اٹھا کر اپنے کندھے پر بَصَرَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا عَجَبًا مِّنْ رکھ لیا اور چل دیئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حِرْصِهِ فَمَا قَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله اپنی آنکھ اُن سے نہیں ہٹائی۔جب تک کہ وہ ہم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمْ۔اوجھل نہ ہو گئے۔اُن کی حرص پر تعجب میں تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں اُٹھے یہاں تک کہ اطرافه: ٣٠٤٩، ٣١٦٥۔وہاں اس (مال) سے ایک درہم بھی نہ رہا۔تشريح : : الْقِسْمَةُ وَتَعْلِيْقُ الْقِنُوِ فِى الْمَسْجِدِ آداب مسجد کے یہ خلاف سمجھا جاتا ہے کہ اس میں عبادت، ذکر اور وعظ کے سوا کوئی اور دنیا کا کام ہو۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسجد میں خرید و فروخت منع فرمائی ہے جیسا کہ آگے اس کا ذکر آئے گا۔(دیکھئے تشریح باب ۷۰) تَعْلِيقُ الْقِنُو فِي الْمَسْجِدِ : امام موصوف نے کھجور کے خوشے لڑکانے کا جو حوالہ دیا ہے وہ دراصل نسائی کی اس روایت کی طرف اشارہ ہے : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ع وَبِيَدِهِ عَصَاوَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قِنُوَ حَشَفٍ فَجَعَلَ يَطْعُنُ فِي ذلِكَ الْقِنْوِ فَقَالَ لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأطْيَبَ مِنْ هَذَا (نسائي۔كتاب الزكاة۔باب قوله عزوجل ولا تيمموا الخبيث منه) یعنی ایک شخص نے رڈی کھجوروں کے خوشے مسکینوں کے لیے مسجد میں لٹکا دیے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے متعلق ارشاد بھی تھا، تا حاجت مند بجائے مانگنے کے ان سے اپنی ضرورت پوری کریں۔رڈی کھجوریں دیکھ کر آپ چھڑی سے اُن خوشوں کو کونچ مارنے لگے اور فرمانے لگے کہ اگر وہ صدقہ والا چاہتا تو اس سے بہتر کھجور میں صدقہ میں دے سکتا تھا۔اس روایت کی طرف اشارہ کر کے امام موصوف نے بتلایا ہے کہ مال غنیمت کی تقسیم بھی نیک اعمال سے ہے اور مسجد میں اس قسم کے کام سرانجام دینا آداب مسجد کے منافی نہیں۔أُتِيَ النَّبِيُّ بِمَالٍ مِّنَ الْبَحْرَيْنِ : بحرین بصرہ اور عمان کے درمیان مشہور شہر ہے۔یہ پہلا خراج تھا جو نبی کے پاس آیا۔ایک لاکھ درہم تھے جو حضرت علاء بن حضرمی امیر بحرین نے بھیجے تھے۔