صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 516 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 516

البخاري - جلد ا ۵۱۶ بَاب ٤١: هَلْ يُقَالُ مَسْجِدُ بَنِي فُلَانٍ؟ کیا یوں کہا جائے کہ فلاں لوگوں کی یہ مسجد ہے؟ - كتاب الصلوة ٤٢٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۴۲۰: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے نافع سے، نافع ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي أُضْمِرَتْ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفیاء سے اُن گھوڑوں کے مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاع درمیان گھڑ دوڑ کرائی جو تیار کیے گئے تھے اور اُن کی وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرُ مِنَ انتہائی حدثَنِيَّةُ الْوَدَاع تھی اور ثنیہ سے بنی زُریق کی مسجد تک اُن گھوڑوں کے درمیان گھڑ دوڑ کرائی جو تیار نہیں کیے گئے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ ان التَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ فِيْمَنْ سَابَقَ بِهَا۔لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ان ( گھوڑوں) پر گھڑ دوڑ کی۔اطرافه ٢٨٦٨ ، ۲۸٦٩، ۲۸۷۰، ۷۳۳۶ تشریح: يُقَالُ مَسْجِدُ بَنِي فَلانٍ : ابراہیم بھی مسجدوں کو کسی شخص یا جماعت کی طرف منسوب کر نا مکروہ مجھتے تھے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۶۷) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ اَحَداً (الجن : 19) باب کا عنوان هَلْ سے شروع کر کے اس مسئلہ کو بصورت استفتاء پیش کیا ہے اور جو روایت اس ضمن میں لائے ہیں اس سے بتلایا ہے کہ تمیز کرنے کے لئے جائز ہے کہ کسی مسجد کو کسی محلہ یا قبیلہ کی طرف منسوب کیا جائے۔لیکن یہ وہ نسبت ملکیت نہیں جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی مسجدیں اللہ کی نہیں بلکہ مذہبی انشقاق کا گھر بن گئی ہیں۔اس قسم کی مسجدیں اسلامی تعلیم کے مقتضاء کے خلاف ہیں۔جس واقعہ کا ذکر روایت نمبر ۴۲۰ میں کیا گیا ہے وہ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گھوڑ دوڑ ہوئی اور بنی فلاں کی مسجد تک ہم دوڑے تھے۔خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نسبت کے متعلق کچھ مروی نہیں۔اس لئے امام موصوف نے سوال قائم کر کے اس کا جواب قارئین کی سمجھ پر چھوڑ دیا ہے۔ثَنِيَّةُ الْوَدَاع مدینہ کے قریب ایک گھائی کا موڑ ہے جہاں مسافرکو الوداع کہنے کے لئے لوگ جایا کرتے تھے۔حَفْيَاء مقام ثنیہ الوداع سے چھ سات میل کے فاصلہ پر ہے۔بنُوزُ رَیق خزرج کا قبیلہ تھا۔ان کی بستی کا نام بھی یہی ہے۔