صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 515 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 515

اری جلد ا ۵۱۵ - كتاب الصلوة النَّبِيُّ ﷺ صَلَاةَ ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ في صلى اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔پھر منبر پر فِي الصَّلَاةِ وَفِي الرُّكُوعِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ پڑھے اور نماز اور رکوع کے متعلق نصیحت فرمائی کہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ رہا ہوتا ہوں؛ مِنْ وَرَائِي كَمَا أَرَاكُمْ۔اطرافه: ٦٦٤٤،٧٤٢ - ایسا ہی جیسا کہ تمہیں آب دیکھ رہا ہوں۔تشریح امام بخاری نے قبلہ کے متعلق روایات کوختم کرتے ہوئے ایک لطیف نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ کہ قبلہ صرف اس کا نام نہیں کہ ایک خاص جہت کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوا جائے اور رسمی طور پر بعض حرکات بجالائے بلکہ اس توجہ الی اللہ کا نام ہے جس میں سوز وگداز اور پورا انہماک فی اللہ ہوتا ہے جس کے بغیر بندے کی نماز تکمیل کو نہیں پہنچتی۔امام موصوف کا مقصد اس باب کے باندھنے سے یہ بتلانا ہے کہ ایک ظاہری قبلہ ہوتا ہے، تَرَوْنَ قِبْلَتِی هَهُنَا۔اور ایک روحانی قبلہ ہوتا ہے جس میں روح کی آنکھ اپنے ماحول کا احاطہ کئے ہوئے ہوتی ہے اور امام جو کہ اپنے مقتدیوں کی روحانی اصلاح کا ذمہ وار ہوتا ہے۔اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے قبلہ کی دو جہتیں رکھے۔ایک جہت توجہ الی اللہ کی اور دوسری جہت اپنے مقتدیوں کی روحانی اصلاح کی۔امام کا قبلہ ایسا وسیع ہونا چاہئے کہ اس میں وہ اپنے مقتدیوں کو سمیٹ کر اپنی روح کی سوز و گداز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور اُن کے لئے تڑپے۔مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلَارُكُوعُكُمْ: آپ کو پورا پورا احساس ہوتا کہ آپ کے پیچھے کھڑے ہونے والوں کی معنوی کیفیات اور ظاہری حرکات اپنے اندر کیا کچھ قوت رکھتی ہیں۔امام کی مہم اسی قدر آسان ہوتی جاتی ہے جس قدر مدد اُس کو مقتدیوں کے معنویات سے ملتی جاتی ہے۔اور آخر امام اور مقتدیوں ، مرشد اور مریدوں، رہنما اور پیراؤں کے درمیان اس قسم کا رابطہ قائم ہو جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی معنویات سے ضرور متاثر ہوتے ہیں۔ان کی حالت مرایا متقابلہ کی سی ہوتی ہے کہ ایک کا عکس دوسرے میں منعکس ہوتا ہے۔إِنْ حَسَنٌ فَحَسَنَا وَإِنْ سَبِّيٌّ فَسَيْئًا۔إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَائِي كَمَا أَرَاكُمُ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اللہ تعالیٰ میں ہو کر ایک مصفی شفاف آئینہ تھی جس میں آپ کے ساتھیوں کے معنوی حالات منعکس ہو کر اپنے مختلف اثرات کو محسوس کراتے رہتے تھے۔آپ کا ادراک ایسا لطیف ہو چکا تھا کہ اگر کسی مجلس میں آپ بیٹھتے تو مجلس والوں کے باطنی خیالات و افکار کوقوی طور پرمحسوس کرتے جس کی وجہ سے آپ کثرت سے استغفار میں مشغول رہتے۔