صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 515
صحيح البخاری جلد ا ۵۱۵ - كتاب الصلوة النَّبِيُّ صَلَاةً ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر منبر پر فِي الصَّلَاةِ وَفِي الرُّكُوعِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ پڑھے اور نماز اور رکوع کے متعلق نصیحت فرمائی کہ مِنْ وَرَائِي كَمَا أَرَاكُمْ۔ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ رہا ہوتا ہوں؟ ایسا ہی جیسا کہ تمہیں اب دیکھ رہا ہوں۔ اطرافه: ٧٤٢، ٦٦٤٤ تشریح : امام بخاری نے قبلہ کے متعلق روایات کو ختم کرتے ہوئے ایک لطیف نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے اوروہ یہ کہ قبلہ صرف اس کا نام کا نام نہیں کہ ایک خاص جہت کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوا جائے اور رسمی طور پر بعض حرب حرکات بجالائے بلکہ اس توجہ الی اللہ کا نام ہے جس میں سوز و گداز اور پورا انہاک فی اللہ ہوتا ہے جس کے بغیر بندے کی نماز تکمیل کو نہیں پہنچتی۔ امام موصوف کا مقصد اس باب کے باندھنے سے یہ بتلانا ہے کہ ایک ظاہری قبلہ ہوتا ہے، تَرَوْنَ قِبْلَتِي هُنا ۔ اور ایک روحانی قبلہ ہوتا ہے جس میں روح کی آنکھ اپنے ماحول کا احاطہ کئے ہوئے ہوتی ہے اور امام جو کہ اپنے مقتدیوں کی روحانی اصلاح کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے قبلہ کی دو جہتیں رکھے۔ ایک جہت توجہ الی اللہ کی اور دوسری جہت اپنے مقتدیوں کی روحانی اصلاح کی۔ امام کا قبلہ ایسا وسیع ہونا چاہئے کہ اس میں وہ اپنے مقتدیوں کو سمیٹ کر اپنی روح کی سوز و گداز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ان کے لئے تڑپے۔ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلَارُكُوْ عُكُمْ : آپ کو پورا پورا احساس ہوتا کہ آپ کے پیچھے کھڑے ہونے والوں کی معنوی کیفیات اور ظاہری حرکات اپنے اندر کیا کچھ قوت رکھتی ہیں ۔ امام کی مہم اسی قدر آسان ہوتی جاتی ہے جس قدر مدد اس کو مقتدیوں کے معنویات سے ملتی جاتی ہے۔ اور آخر امام اور مقتدیوں ، مرشد اور مریدوں، رہنما اور پیراؤں کے درمیان اس قسم کا رابطہ قائم ہو جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی معنویات سے ضرور متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی حالت مرا یا متقابلہ کی سی ہوئی ا متقابلہ کی سی ہوتی ہے کہ ایک کا عکس دوسرے میں منعکس ہوتا ہے۔ اِنْ حَسَنٌ فَحَسَن وَإِنْ سَيِّيٌّ فَسَيْئًا۔ إِنِّي لَا رَاكُمْ مِّنْ وَرَائِي كَمَا أَرَاكُمُ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اللہ تعالیٰ میں ہو کر ایک مصفی شفاف آئینہ تھی جس میں آپ کے ساتھیوں ۔ آپ کے ساتھیوں کے معنوی حالات منعکس ہو کر اپنے مختلف اثرات کو محسوس کراتے رہتے تھے۔ آپ کا اور اک ایسا لطیف ہو چکا تھا کہ اگر کسی مجلس میں آپ بیٹھتے تو مجلس والوں کے باطنی خیالات و افکار کو قوی طور پر محسوس کرتے جس کی وجہ سے آپ کثرت سے استغفار میں مشغول رہتے ۔