صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page lvii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lvii

صحيح البخاري ۳۷ دیباچه جامع صحیح مسند کا اعلیٰ پایہ: امام بخاری نے جب قلم اٹھایا ہے توان کے سامنے احادیث کا جب ایک جب ہے ان کےسامنے کی کتابوں کا ذخیرہ موجود تھا۔ علاوہ ازیں انہوں نے صرف اسی مرقومہ ذخیرہ احادیث پر ہی اعتماد نہیں کیا بلکہ ہر قسم کی شہادت سے جو اس وقت میسر آسکتی تھی اور میعار جرح و تعدیل پر صحیح اور غیر صحیح کی جانچ پڑتال پوری جانفشانی سے کی ہے جس کا اعتراف ان کے ہم عصر اسا تذہ احادیث کو کرنا پڑا جو فن جرح و نقد میں چوٹی کے امام تھے۔ علی بن المدینی اور محمد بن یحی زہلی جو روایتوں کے علل (یعنی مخفی نقائص) کے جاننے میں اعلیٰ پایہ کے امام مانے گئے ہیں۔ ان میں سے اول الذکر کے متعلق تو خود امام بخاری کو بھی ان کی فضیلت کا اعتراف ہے اور ثانی الذکر اُس زمانے کے علماء میں سب سے بڑے عالم تسلیم کئے گئے ہیں۔ ان دونوں سے امام موصوف نے اخذ کیا اور ان کے سامنے اپنی تصنیف پیش کی اور انہوں نے اس کی امتیازی حیثیت کو قبول کیا۔ میں ( مقدمه فتح الباري ۔ الفصل الثامن فى سياق الاحاديث التي انتقدها عليه حافظ عصره ابو الحسن الدارقطنی صفحه ۵۰۶) حافظ ابو الحسن الدارقطنی (۳۰۴-۳۸۱ھ) اور بعض دیگر متاخرین نے سارا زور لگا کر صحیح بخاری میں سے کل ایک سو س روایتوں کے نقص کا پتہ دیا ہے۔ ان میں سے بتیں تو وہ احادیث ہیں جو امام مسلم نے بھی قبول کیں اور اٹھتر وہ ہیں جن امام بخاری متفرد ہیں۔ مگر امام احمد ( ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مستقل فصل قائم کرتے ہوئے ان احادیث کو جن پر مشار الیہ متاخرین نے اعتراض کئے ہیں ؟ ایک ایک کر کے لیا اور دکھلایا ہے کہ ان میں امام بخاری کی روایت صائب ہے۔ وہ آخر میں فرماتے ہیں: فَإِذَا تَأَمَّلَ الْمُنْصِفُ مَا حَرَّرُ تُهُ مِنْ ذَلِكَ عَظُمَ مِقْدَارُ هَذَا الْمُصَنَّفِ فِي نَفْسِهِ وَجَلَّ تَصْنِيفُهُ فِي عَيْنِهِ وَعَدَّرَ الأَئِمَّةُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَلَقِّيْهِ بِالْقُبُولِ وَالتَّسْلِيمِ وَتَقْدِيمِهِمْ لَهُ عَلَى كُلِّ مُصَنِّفٍ فِي الْحَدِيثِ وَالْقَدِيمِ ( مقدمه فتح الباري الفصل الثامن في سياق الاحاديث التي انتقدها عليه حافظ عصره ابو الحسن الدارقطنی صفحہ ۵۴۷) جامع مسند صحیح بخاری کی اہمیت و عظمت کا پتہ اس امر سے بھی بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی بڑی بڑی تنظیم شرحیں لکھی گئی ہیں جو پچاس سے بھی زیادہ سے بھی زیادہ ہیں اور ان کے لکھنے والوں میں یہ میں شیخ الاسلام حافظ احمد ( ابن حجر ) عسقلانی، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ بدرالدین عینی اور علامہ محمد تیمی جیسے ائمہ کبار ہیں۔ اول الذکر نے متعدد ضخیم جزوں میں بالاستعیاب بخاری کی شرح لکھی ہے جو سب سے اعلیٰ اور مستند مانی گئی ہے۔ ایسا ہی علامہ عینی نے بھی شرح لکھی ہے۔ میں نے جامع بخاری کی یہ شرح لکھتے وقت ان دونوں شرحوں کو خصوصیت سے اپنے سامنے رکھا ہے۔ جیسا کہ ان حوالہ جات سے ظاہر ہے جو میں نے ان سے اخذ کرتے وقت اپنی شرح میں جا بجا دئے ہیں۔ ان مصنفین نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے جس کا ہم تا قیامت بدلہ ادا نہیں کر سکتے۔ اگر ان کی محنت و کاوش امام بخاری کی تعلیقات اور متابعات وغیرہ مختصر حوالہ جات اور ابواب کے عنوانوں کا کھوج نہ نکالتی تو صحیح بخاری یقیناً ہمارے لئے اپنی موجودہ صورت میں ایک گورکھ دھندا تھی۔ ان کی جدو جہد نے ہمارے دماغوں کو اپنا کام کرنے کے لیے نہایت ہی آسانی پیدا کر دی ہے۔ جتنا بھی ہم ان کی