صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 503
البخارى- جلد ا ۵۰۳ - كتاب الصلوة مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيْتُ بات ہوتی تو میں تمہیں اُس سے آگاہ کر دیتا۔لیکن فَذَكِّرُوْنِيْ وَإِذَا شَكَ أَحَدُكُمْ فِی میں تو تمہاری طرح ہی بشر ہوں۔بھولتا ہوں جیسا کہ صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ تم بھولتے ہو۔اس لئے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔اور اگر تم میں سے کوئی اپنی نماز کے ثُمَّ لِيُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ۔متعلق شک میں پڑ جائے تو چاہئے کہ جو بات زیادہ ٹھیک معلوم ہو وہی اختیار کرے اور اس پر نماز پوری کرے اور پھر سلام پھیرے۔پھر دو سجدے کرے۔اطرافه: ٤٠٤، ١٢٢٦، ٦٦٧١، ٧٢٤٩۔اَلتَّوَجُهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ حَيْثُ كَانَ : ایک نیا عنوان قائم کر کے سابقہ مسئلہ کی مزید تائید کی ہے۔حضرت ابو ہریرہ کے جس قول کا حوالہ دیا ہے وہ كِتَابُ الاِسْتِعْذَان، باب مَنْ رَدَّ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلام: نمبر ۶۲۵ میں ہے۔اس باب کے ذیل میں تین روایتیں لائے ہیں۔پہلی روایت میں تحویل قبلہ کی تاریخ کی طرف اشارہ ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب الایمان باب ۳۰ الصلاة من الایمان۔روایت ۴۰ کی شرح۔فَإِذَا أَرَادَ الْفَرِيضَةَ نَزَلَ۔۔۔۔دوسری روایت سے بتلایا کہ نماز فریضہ کی ادائیگی کے لئے قبلہ کی طرف منہ کر ناحتی الوسع ضروری ہے۔نوافل میں اونٹنی یا سواری جدھر جارہی ہو ادھر منہ کر کے نماز پڑھ لینی چاہیے۔باب ۲۰ کے عنوان میں کشتی میں نماز پڑھنے کے متعلق ایک فتوی نقل کیا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز فریضہ جدھر کشتی جا رہی ہو اُسی طرف منہ کر کے پڑھنی جائز ہے۔اس پر ریل اور جہاز کا قیاس کیا جاسکتا ہے۔بحالت مجبوری اسلام نے سہولت دی ہے۔تیسری روایت نمبر ۴۰۱ ایک اختلافی مسئلہ حل کرنے کے لئے لائے ہیں جس کا تعلق قبلہ کے ساتھ ہے اور وہ یہ کہ آیا قبلہ کی جہت معین کرنے میں اجتہاد کافی ہے یا یہ کہ اس کی تعیین پوری صحت پر مبنی ہو؟ امام بخاری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں اس کا ایک اصولی جواب دیا ہے: إِذَا شَكٍّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ علیه۔یعنی جو بات زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہو اس پر اپنی نماز کی تکمیل کرے تکلیف مالا طاق میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔قرآن مجید نے یہ امر واضح کر دیا ہے کہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرتافی ذاتہ نیکی نہیں ہے۔لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔۔( البقرة :۱۷۸) { نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہروں کو مشرق یا مغرب کی طرف پھیرو۔} شارع اسلام نے بھی اس ارشاد کی عملاً تشریح فرما دی ہے تاکہ لوگ کہیں خود کعبہ کو پوجنے کی جگہ نہ تصور کر لیں جیسا کہ دوسری قوموں نے اپنی مقدس جگہوں کو پوجنا شروع کر دیا۔کعبہ کو صرف اس لئے ترجیح دی ہے کہ وہ پہلا گھر ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کھڑا کیا گیا تھا اور وہ اُس کامل عبودیت کا مجسمہ ہے جس کا نمونہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دکھایا۔تا کہ لوگ اپنی عبادت میں حضرت ابراہیم کے طریق حنیفیت کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔اسی نکتہ جلیلہ کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى (البقرة :(۳۲) اور ابراہیم کے مقام میں سے نماز کی جگہ پکڑو۔}