صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lvi
صحيح البخاري ۳۶ دیباچه ربیع بن صبح اور سعید بن ابی عروبہ نے مصر میں، معمر اور عبد الرزاق نے یمن میں، سفیان ثوری اور محمد بن فضیل نے کوفہ میں حماد بن سلمہ اور رعاب بن عبادہ نے بصرہ میں، حسین نے واسطہ میں اور عبداللہ بن مبارک نے خراسان میں احادیث کی کتابیں لکھیں اور اس کے بعد صحیح بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ جیسی کتابیں وجود میں آئیں ۔ ایسا ہرگز نہیں ہوا کہ یونہی خیالی اصول قائم کر کے تیسری صدی میں ائمہ حدیث نے بغیر کسی سابقہ تحریری استناد حاصل کرنے کے محض زبانی روایتوں پر ضخیم کتابیں لکھ ڈالی ہوں ۔ منکرین احادیث کتابیں لکھ ڈالی ہوں ۔ منکرین احادیث کے الزامات در حقیقت تاریخ سے جہالت ۔ تاریخ سے جہالت پر مبنی ہیں۔ صرف صحابہ ابہ اور تابعین کا ہی سلسلہ اتصال و اسناد آپس میں نہایت مضبوط و مستحکم ہے۔ بلکہ تبع تابعین ا تابیں اور ان سے روایت کرنے والوں کا بھی۔ وہ ایک دوسرے کے ہم عصر و ہم نشین اور ثقہ ہونے کے تمام اوصاف حمیدہ سے متصف اور تاریخ اسلامی میں مشہور و معروف ہیں اور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ۔ نہ امام بخاری کے ان راویوں کو ہی لیجئے جن سے انہوں نے احادیث اخذ کی ہیں۔ ان میں سے ایک طبقہ تو وہ ہے جو نہایت ہی ثقہ تابعین سے روایت کرنے والے ہیں۔ جیسے محمد بن عبداللہ انصاری جنہوں نے حمید بن عبدالرحمن سے مکی بن ابراہیم وابو عاصم نبیل جنہوں نے یزید بن ابی عبید سے۔ عبید اللہ بن موسیٰ جنہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے۔ ابونعیم جنہوں نے اعمش سے۔ خلاد بن کی جنہوں نے عیسیٰ بن طہمان سے اور علی بن عیاش و عصام بن خالد جنہوں نے حریز بن عثمان سے روایتیں بیان کیں اور ایک وہ طبقہ ہے جنہوں نے امام احمد بن حنبل علی بن المدینی ، اسحاق بن راہویہ، سلیمان بن حرب ، قتیبہ بن سعید، نعیم بن حماد اور یحییٰ بن معین جیسے اعلیٰ پایہ کے ثقہ تبع تابعین سے روایتیں نقل کیں۔ ان کے علاوہ کچھ ایسے راوی ہیں جو یا تو تابعین کے ہم عصر ہیں مگر انہیں اعلیٰ درجہ کے تابعین سے ملاقات کرنے اور روایتیں سننے کا موقع نہیں ملا یا وہ ہیں جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر اسا تذہ احادیث یا ان کے وہ شاگرد ہیں جن پر پورے طور پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ (مقدمہ فتح الباری ذکر مراتب مشايخه الذين كتب عنهم وحدث عنهم ۔ صفحه ۶۷۰-۶۷۱) امام احمد بن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب اور ان کے علاوہ دیگر محققین نے مختلف کتابوں میں ان راویوں کے حالات لکھے ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اپنے زمانہ میں اعلیٰ پایہ کے علمائے حدیث تھے۔ جامع صحیح مسند بخاری کے مذکورہ بالا راویوں کی فہرست پر ایک نظر ڈالنے سے عیاں ہو جاتا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ اسناد تابعین اور تبع تابعین سے قریب ترین اور نہایت قابل اعتماد جہت سے متصل ہے۔ یہ نہیں کہ اس سلسلہ اتصال کے حلقات میں کوئی انقطاع واقع ہو۔ خلاصہ کلام یہ کہ روایتوں کے سلسلہ اسناد کو جس میعار پر پرکھا جائے اور جس جہت سے بھی اس پر نظر ڈالی جائے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس کے حلقے ایک دوسرے سے وابستہ اور پیوستہ ہیں اور اس بارے میں منکرین احادیث کے اعتراضات بالکل فرسودہ اور بے بنیاد ہیں۔