صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lv
صحيح البخارى ۳۵ دیباچه محفوظ ہو چکا تھا۔اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ محض سینہ بسینہ علم اور شنیدہ روایات پر ہی کلیۂ انحصار رکھا گیا۔صحابہ اور تابعین ابھی زندہ ہی تھے کہ احادیث کے ضبط اور تدوین کا خیال پیدا ہوا اور اس پر امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی المؤطا منکرین احادیث کے مزائم باطلہ کو ر ڈ کرنے کے لئے شاہد ناطق - ہے۔منکرین احادیث کے اعتراضات واہیہ کا رڈ امام مالک پر جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان سے صرف تین چار سو حدیثیں مروی ہیں کہ جن کا سلسلہ اسناد غیر معلوم ہے اور یہ کہ ان کی موطا سلطنت بنی امیہ کی ہوا خواہی وسرپرستی میں خاص اغراض کے ماتحت لکھی گئی۔یہ اعتراض اول تو اس امر سے باطل ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک ہزار سات سو بیس حدیثیں روایت کی ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ معروف ہیں۔دوم اس امر سے بھی اس اعتراض کا بطلان ظاہر ہے کہ اس کتاب کے مسائل کا تعلق ایسے احکام اور سنن نبوی سے ہے جو عبادات اور معاملات سے مخصوص ہیں۔پس ان کو غرض پرستی سے متصف کرنا حقائق سے آنکھیں بند کرنا اور بہت بڑی جسارت ہے بلکہ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کو تو جعفر عامل مدینہ ( جو کہ خلیفہ منصور کا قریبی رشتہ دار تھا) کی منشاء کے مطابق فتویٰ نہ دینے کی وجہ سے اس کے حکم سے ایک مجرم کی طرح ننگے بدن کوڑے لگائے گئے تھے۔ایسی شخصیت کے متعلق یہ الزام لگانا کہ اس نے اپنے فتووں کی بناء بنی امیہ کے حکام کی رضا جوئی پر رکھی تھی بہتان عظیم ہے۔شہادت کے دو اہم رکن : منکرین احادیث بعض وقت یہ بھی کہ دیا کرتے ہیں کہ سلسلہ سند کی زبانی شہادت در شہادت کوئی قابل اطمینان صورت نہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھی مہذب دنیا کے قوانین عدل و انصاف قانون کی نظر میں تحریری شہادت جب تک زبانی شہادت معتبرہ کی تصدیق حاصل نہ کرلے کوئی وزن و قیمت نہیں رکھتی۔محض ایک شخص کے قبضہ میں تحریری دستاویز کا ہونا اس بات کا یقینی ثبوت نہیں کہ واقعہ میں وہ دستاویز مسیح بھی ہے یا نہیں ، جب تک کہ اس کی تائید ایسے گواہوں سے نہ ہو جائے کہ وہ کچی ہے اور جعلی نہیں۔پس محققین جیسے قدیم زمانہ میں دونوں قسم کی شہادتوں کو بنظر اعتبار دیکھتے تھے، آج بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ دونوں قسم کی شہادتوں پر اعتما در رکھتے ہوئے متقدمین نے احادیث کو مدون کیا۔دوسری صدی کے نصف گزرنے سے قبل ہی ابومحمد ابن جریج نے مکہ مکرمہ میں امام مالک اور سفیان بن حسینہ نے مدینہ میں اور بعض کے نزدیک محققین اس بات پر متفق ہیں کہ پہلی صدی کے راوی خواہ وہ صحابہ میں سے ہوں یا تابعین سے ؛ تمام کے تمام اثقہ تھے سوائے شاذ و نادر کے۔جیسے حارث اعور اور مختار کذاب اور دوسری صدی کے ابتداء میں بعض کمزور راوی پائے جاتے تھے۔اس اعتبار سے کہ وہ بعض دفعہ غلطی سے موقوف کو مرفوع بیان کر دیتے یا اس اعتبار سے کہ انہوں نے مرسل روایتیں نقل کیں۔فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ اخِرِ عَصْرِ التَّابِعِينَ وَهُوَ حُدُودُ الخَمْسِينَ وَالْمِائَةِ تَكَلَّمَ فِي التَّوْثِيقِ وَالتَّضْعِيْفِ طَائِفَةٌ مِنَ الأئِمَّةِ - ( فتح المغيث صفحہ ۴۷۹) یعنی جب تابعین کا زمانہ ۱۵۰ھ میں ختم ہونے لگا تو بعض ائمہ نے قومی اور ضعیف روایتوں میں تمیز کی اور اُن پر کتابیں لکھیں۔