صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 489
البخارى- جلد ا ۴۸۹ - كتاب الصلوة ضروری ہے۔ان کے اس خیال کی بنا ء ایک مشہور روایت ہے جو ترندی نے نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا تَربَ وَجْهَكَ (ترمذى۔كتاب الصلاة باب ما جاء في كراهية النفخ في الصلاة) یعنی اپنے منہ کومٹی سے آلودہ کر۔اس لئے ابن سیرین اور عامر شعبی وغیرہ علماءکا یہ فتویٰ ہے کہ اگر کشتی سے نکلنا ممکن ہو تو نکل کر زمین پر نماز پڑھے۔بعض لوگ تو کشتی میں سوار ہوتے وقت مٹی ساتھ لے لیا کرتے تھے۔حسن بصری کی طرف بھی اسی قسم کا ایک فتویٰ منسوب کیا جاتا ہے جس کا رد امام بخاری نے عنوان باب میں کیا ہے۔( فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۳۴) روایت نمبر ۰ ۳۸ پیش کر کے یہ بتلایا ہے کہ آپ نے چٹائی پر بھی نماز پڑھی اور اس میں جسم زمین سے براہ راست نہیں چھوا۔اس پر کشتی وغیرہ چیزوں کا قیاس کیا جاسکتا ہے۔تکلیف مالا طاق میں ڈالنا شریعت اسلام کی روح کے خلاف ہے۔اسلام سہولت کی تعلیم دیتا ہے۔حضرت جابرؓ، حضرت ابوسعید اور حسن بصری کے حوالوں کی تفصیل عمدۃ القاری جز ۴ صفحہ ۱۰۹ اور فتح الباری جزء اول صفحہ ۶۳۶ میں دیکھیں۔بَاب ۲۳ : السُّجُوْدُ عَلَى القَوْبِ فِي شِدَّةِ الْحَرِ شدت گرمی کی وجہ سے کپڑے پر سجدہ کرنا وَقَالَ الْحَسَنُ كَانَ الْقَوْمُ يَسْجُدُونَ اور حسن بصری ) نے کہا کہ لوگ * پگڑی اور ٹوپی پر عَلَى الْعِمَامَةِ وَالْقَلَنْسُوَةِ وَيَدَاهُ فِي كُمِّهِ۔سجدہ کیا کرتے تھے۔اور ہر ایک کا ہاتھ اپنی آستین میں ہوتا۔٣٨٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ :۳۸۵ ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بیان کیا، کہا: بشر بن مفضل نے ہم سے بیان کیا، کہا: الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ غالب قطان نے مجھے بتلایا۔انہوں نے بکربن عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عبد اللہ سے، بکر نے حضرت انس بن مالک سے قَالَ كُنَّا نُصَلَّيْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وَسَلَّمَ فَيَضَعُ أَحَدُنَا طَرَفَ الثَّوْبِ مِنْ ساتھ نماز پڑھا کرتے اور ہم میں سے کوئی شدتِ شِدَّةِ الْحَرِ فِي مَكَانِ السُّجُوْدِ۔گرمی کی وجہ سے سجدہ کی جگہ میں کپڑے کا کنارہ رکھ اطرافه: ٥٤٢، ١٢٠٨- كَانَ الْقَوْمُ۔۔۔۔۔۔لوگوں سے مراد صحابہ کرام ہیں۔لیتا۔