صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 488
حيح البخاري - جلد ا - كتاب الصلوة قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ وَالْبُيُوْتُ يَوْمَئِذٍ تو مجھے ہاتھ سے دباتے اور میں اپنے پاؤں سکیٹر لیتی۔لَيْسَ فِيْهَا مَصَابِيْحُ۔اور جب کھڑے ہوتے تو اُن کو پھیلا دیتی۔کہتی تھیں کہ ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔اطرافه: ۳۸۳، ۳۸۴، ۵۰۸، ۰۱۱، ۵۱۲، ٥۱۳، ۰۱٤، ۰۱۵، ۵۱۹، ۹۹۷، ۱۲۰۹، ٦٢٧٦۔۳۸۳ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۳۸۳ : ہم سے بیٹی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بتلایا کہ حضرت عائشہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی کے بچھونے پر نماز پڑھا کرتے اور وہ آپ کے اور قبلہ کے درمیان آپ کے سامنے اس طرح پڑی ہوتیں جس طرح کہ جنازہ۔كَانَ يُصَلَّيْ وَهِيَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِ أَهْلِهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ۔اطرافه: ۳۸۲، ۳۸۴، ۵۰۸، ۵۱۱، ۵۱۲، 5۱۳، 514، 515، 519، ۹۹۷، ١٢۰۹، ٦٢٧٦۔٣٨٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۳۸۴ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عِرَاكِ لیث نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے یزید سے، یزید نے عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِراک سے، عراک نے عروہ سے روایت کی کہ نبی صلى الله ع نماز پڑھ رہے ہوتے۔اور حضرت عائشہ كَانَ يُصَلِّي وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس بستر پر جس پر وہ الْقِبْلَةِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَنَامَانِ عَلَيْهِ۔دونوں سویا کرتے تھے چوڑائی کے رخ سامنے لیٹی تشریح: ہوتیں۔اطرافه ،۳۸۲ ، ۳۸۳، ۵۰۸، ۵۱۱، ۵۱۲، ٥۱۳، ۰۱٤، ۵۱۵، ۵۱۹، ۹۹۷، ۱۲۰۹، ٦٢٧٦۔باب ۲۰ ۲۱ ۲۲ باندھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زمین پر نماز پڑھنی چاہئے تا تواضع اور عاجزی کا پورے طور پر اظہار ہو۔عمر بن عبد العزیز اس تواضع کے معنی کو قائم رکھنے میں حد سے زیادہ مبالغہ کرتے تھے۔اپنی چٹائی پر سجدہ گاہ پر مٹی ڈال لیتے اور اس پر سجدہ کرتے۔عروہ بن زبیر وغیرہ کے متعلق بھی یہی بیان کیا جاتا ہے کہ وہ زمین کے سوا کسی اور چیز پر نماز پڑھنا مکروہ سمجھتے تھے (عمدۃ القاری جز ۴۰ صفحہ۱۱۲۱۰۹) صَلَّى جَابِرٌ وَأَبُو سَعِيدٍ فِى السَّفِينَةِ قَائِمًا : بیسویں باب کے عنوان میں کشتی میں نماز پڑھنے کا جو ذکر کیا گیا ہے وہ بھی اسی وجہ سے ہے کہ بعض علماء کا خیال ہے کہ نماز میں جسم کے اعضاء مثلاً پیشانی وغیرہ کا زمین سے چھونا