صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 476 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 476

صحيح البخاری جلد ا - كتاب الصلوة الْقَرْيَةَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا قوم کے آنگن میں ڈیرہ ڈالتے ہیں تو پھر ان لوگوں کی نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ صبح بری ہوتی ہے جن کو ( قبل از وقت عذاب الہی الْمُنْذَرِينَ (الصافات: (۱۷۸) قَالَهَا سے) ڈرایا گیا ہو۔ یہ آپ نے تین بار کہا۔ (حضرت ثَلَاثًا قَالَ وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ (س) کہتے تھے کہ لوگ اپنے کاموں کے لئے باہر نکلے فَقَالُوا مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ تو انہوں نے کہا: محمد ( آگیا)۔ اور عبدالعزیز کہتے تھے کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے (محمد کے ساتھ ) بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَالْخَمِيْسُ يَعْنِي مي کا لفظ بھی کہا تھا۔ ہا تھا یعنی فوج ۔ (حضرت انس ) کہتے الْجَيْشَ قَالَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجُمِعَ تھے کہ ہم نے اسے لڑ کر فتح کیا تھا۔ اور قیدیوں کو اکٹھا السَّبْيُ فَجَاءَ دِحْيَةً فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ کیا گیا تو دحیہ کلبی ) آئے اور کہا: نبی اللہ ! مجھے ان أَعْطِنِي جَارِيَةً مِّنَ السَّبْيِ قَالَ اذْهَبْ قیدیوں میں۔ میں سے ایک لونڈی دیجئے ۔ فرمایا: جاؤ ایک فَخُذْ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيّ فَجَاءَ لونڈی لے لو۔ انہوں نے حی کی بیٹی صفیہ لی۔ اس پر رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: نبی فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ اللہ ! آپ نے دحیہ کو قریظہ اور نضیر کی سردار صفیہ بنت حُيَيّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيْرِ لَا تَصْلُحُ إِلَّا کی دی ہے۔ وہ تو صرف آپ کے ہی لائق ہے۔ لَكَ قَالَ ادْعُوهُ بِهَا فَجَاءَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ فرمایا: اسے بمعہ صفیہ بلالا ؤ۔ وہ صفیہ کو لے آئے۔ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ان سے اس کے سوائے کوئی اور لونڈی تم جَارِيَةً مِّنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا قَالَ فَأَعْتَقَهَا قیدیوں میں سے اس کے سوائے لے لو ۔ حضرت انس کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَزَوَّجَهَا نے حضرت صفیہ کو آزاد کر دیا۔ اور پھر ان سے شادی فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ کی۔ اس پر حضرت ثابت نے ) رت ثابت نے (حضرت انس ) سے نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ پوچھا کہ ابوحمزه! ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) نے بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ اسے کیا مہر دیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے اس کو مِنَ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آزاد کر دیا تھا اور اس سے شادی کر لی۔ آخر جب