صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 477
صحيح البخاری جلد ا - كتاب الصلوة رم وَسَلَّمَ عَرُوسًا فَقَالَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ آپ ابھی راستے میں ہی تھے تو حضرت ام سلیم نے فَلْيَجِئْ بِهِ وَبَسَطَ نِطَعًا فَجَعَلَ الرَّجُلُ حضرت صفیہ کو آپ کی خاطر آراستہ کیا اور رات کو يَجِيءُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ آپ کے پاس انہیں بھیج دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح بِالسَّمْنِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ کو دولہا تھے اور آپ نے فرمایا: جس کے پاس کوئی چیز قَالَ فَحَاسُوا حَيْسًا فَكَانَتْ وَلِيْمَةَ ہو وہ اسے لے آئے اور آپ نے چمڑے کا دستر خوان بچھا دیا تو کوئی شخص تو کھجور میں لانے لگا اور کوئی گھی ۔ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ (عبدالعزیز نے) کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے ستو کا بھی ذکر کیا تھا۔ کہتے تھے: پھر انہوں نے ان سب کو آپس میں ملا کر گوندھ دیا اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ إطرافه: ٦١٠ ، ٩٤٧، ۲۲۲۸، ۲۲۳۵، ۲۸۸۹، ۲۸۹۳، ٢۹۷۳، ٢٩٤٤، ٢٩٤٥، ،٣٣٦٧، ٣٦٤٧، ٤٠٨، ٤٠٨٤ ، ١٩٧، ٤١٩٨ ،۳۰۸۶ ،۳۰۸۵ ،۲۹۹۱ ٤٢، ٤٢١١، ٤٢١٢ ، ٤٢١٣، ٥٠٨٥، ٥١٥، ٥١٦٩۰۱ ، ۱۲۰۰ ، 199 ٥٣٨٧، ٥٤٢٥، ٥٥٢٨، ٥٩٦٨، ٦١٨٥ ، ٦٣٦٣ تشریح : مَا يُذْكَرُ فِي الْفَخِذ سوائے امام احمد بن قبل علیہ الرحمة - یہ الرحمۃ کے باقی تین اماموں نے گھٹنوں سے لے کر ناف تک کا حصہ جسم او حصہ جسم اور ایک دوسرے گروہ نے صرف شرمگاہ اور مقعد ہی کو ستر قرار دیا ہے۔ راضي البداية المجتهد كتاب الصلوة ۔ الباب الرابع من الجملة الثانية في الشروط۔ الفصل الأول في ستر العورة المسئلة الثانية فى حد العورة من الرجل) اس اختلاف کا سبب حضرت جرھدا اور حضرت انس کی دو مختلف روایتیں ہیں۔ امام بخاری نے مذکورہ بالا طریق سے ان کے درمیان تطبیق کی ایک صورت واضح کی ہے۔ جب حضرت عثمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ۔ آئے تو آپ نے بطور احتیاط کے ران ڈھانک لی۔ کتاب المناقب ) اب المناقب ( كتاب فضائل الصحابه ۔ باب مناقب عثمان بن عفان : ۳۶۹۵) میں اس واقعہ کا ذکر ہے۔ کا ذکر ہے۔ حضرت زید بن ثابت کا قول سورہ نساء کی تفسير (كتاب التفسير ۔ باب ۱۸ : لا يستوى القاعدون من المؤمنين و المجاهدون : ۴۵۹۲) میں منقول ہے۔ ان دونوں روایتوں کا حوالہ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت انس کی روایت نمبر ۱۳۷۱ با عتبار سند کے نہایت صحیح ہے اور اسے رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہاں فخذ سے مرادر ان کا نچلا حصہ ہے جس سے بعض وقت شدت گرمی کی وجہ سے کپڑا اُٹھا دیا جاتا ہے۔ ران کا اوپر کا حصہ مراد نہیں۔ حَسَرَ الْإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ : سوار ہونے کے وقت جبکہ تہ بند باندھا ہو، ایسی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ روایت نمبر ۳۷۱ کے بقیہ ماندہ مضمون کی شرح کتاب المغازی اور کتاب النکاح میں دیکھیں۔