صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 470
صحيح البخاری جلد ا ٢٠ - كتاب الصلوة أَرِنِي إِزَارِي ، فَشَدَّهُ عَلَيْهِ۔ ترجمہ: جب کعبہ کی تعمیر کی گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس ( بھی ) پتھر ڈھونے لگے۔ حضرت عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اپنا تہ بندا اپنی گردن پر رکھ لیں۔ (ایسا کرنے سے ) آپ زمین پر گر پڑے اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھ گئیں۔ فرمایا: میراتہ بند مجھے دو۔ اس پر (حضرت عباس نے ) وہ تہ بند آپ کو باندھ دیا۔} تعمیر کعبہ کے زمانہ میں آپ کی عمر بعض روایات کی رو سے ۱۵ سال روایات کی رو سے ۱۵ سال کی تھی اور بعض کی رو ربعض کی رو سے ۳۵ سال۔ اور شہاب الدین زہری کے قول کے مطابق اس وقت آپ ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے (عمدۃ القاری جزء :۴ صفحہ:اے ) اور یہ قول زیادہ قرین قیاس ہے۔ جیسا کہ کتاب ما کہ کتاب الحج کی روایت کے الفاظ بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ آپ کے چانے آپ کا نہ بند باندھا تھا۔ یہ مختلف روایتیں متضاد نہیں بلکہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ تعمیر کعبہ کا کام مختلف وقتوں میں ہوا تھا۔ اس کا سامان اکھٹا کرنے کرانے میں ایک عرصہ صرف ہوا اور اس کے مختلف حصے مختلف اوقات میں تعمیر ہوئے۔ جب حجر اسود رکھنے کا واقعہ پیش آیا ہے تو اس وقت آپ کی عمر ۳۵ سال کے قریب تھی۔ ننگا ہونے کا واقعہ حجر اسود رکھے جانے کے زمانہ کا نہیں بلکہ اس سے بہت مدت پہلے کا ہے۔ یعنی اس زمانہ کا جب قریش نے تعمیر کعبہ کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے پتھر ڈھونے کا انتظام شروع ہوا۔ یہ کام اس وقت لڑکوں سے بھی لیا گیا تھا۔ چنانچہ سیرۃ ابن اسحاق میں مذکورہ بالا واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا گیا ہے: لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي غِلْمَانِ قُرَيْشٍ بِنَقْلِ الْحِجَارَةِ ۔۔۔۔ كُلْنَا قَدْ تَعَزَّى وَأَخَذَ إِزَارَهُ وَجَعَلَ عَلَى رَقَبَتِهِ يَحْمِلُ عَلَيْهَا الْحِجَارَةَ ۔۔ (عمدۃ القاری جزء ۴ صفحه ۷۱-۷۲) { ترجمہ: میں نے اپنے آپ کو قریش کے لڑکوں کے ساتھ پتھر ڈھوتے دیکھا ہے۔ ہم سب (بچے ) ننگے تھے۔ آپؐ نے اپنا تہ بند لیا اور اسے اپنی گردن پر رکھ کر پتھر ڈھونے لگے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام بچے اپنا تہ بند گردن پر رکھ کر پتھر ڈھوتے تھے۔ اور آپ نے بھی اپنے چچا کے کہنے پر ایسا کیا۔ زمانہ بچپن کے حالات اگر چہ مسائل شریعت کی بنیاد نہیں ہو سکتے ۔ مگر امام بخاری فَمَا رُوِيَ بَعْدَ ذلِكَ عُریاناً سے مسئلہ اخذ کرنے کا جائز حق رکھتے ہیں۔ بَاب : الصَّلَاةُ فِي الْقَمِيصِ وَالسَّرَاوِيلِ وَالتُبَّانِ وَالْقَبَاءِ قمیص اور پا جائے اور جانگئے اور چونے میں نماز پڑھنا ٣٦٥: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۳۶۵ : ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا: قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ حماد بن زید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ایوب سے، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ ایوب نے محمد سے، محمد نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وسلم کے پاس اٹھ کر آیا۔ اور اُس نے ایک ہی کپڑے فَسَأَلَهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ میں نماز پڑھنے کے متعلق آپ سے پوچھا: آپ نے