صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 469 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 469

البخارى- جلد ا - كتاب الصلوة ماحصل یہ ہے کہ آپ نے اس میں نماز پڑھی۔ایسا ہی حسن بصری کا فتوی نقل کر کے یہ بتلایا گیا ہے کہ کفار کے ہاتھ سے بنے ہوئے کپڑے پہننا بھی جائز ہے۔اسلام روح تسامح کی تعلیم دیتا ہے نہ تعصب اور تنگ دلی کی اور اقوم عالم میں تعاون کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔خلاصہ یہ کہ از روئے اسلام جسم اور لباس کی طہارت اور ننگ کا حسب استطاعت ڈھانپنا آداب صلوۃ میں سے بطور ایک ضروری ادب کے ہے۔بَاب كَرَاهِيَةُ التَّعَرِي فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا نماز وغیرہ میں ننگا ہونے کی کراہیت ٣٦٤ حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ ۳۶۴: ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا کہا: روح حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ نے ہمیں بتلایا۔کہا: زکریا بن اسحاق نے ہم سے إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے ہم کو بتلایا۔انہوں نے سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ أَنَّ کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا۔وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لئے ان کے ساتھ پتھر اٹھا کر لے جاتے تھے۔اور يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ آپ نہ بند پہنے ہوئے تھے۔اس پر آپ کے چچا إِزَارُهُ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَو حضرت عباس نے کہا: بھتیجے! اگر اپنا تہ بند کھول کر حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ اسے اپنے کندھوں پر پتھروں کے نیچے رکھو ( تو تمہیں دُوْنَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَی تکلیف نہ ہو)۔(حضرت جابر) کہتے تھے کہ انہوں مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُوِيَ نے آپ کا نہ بند کھول کر آپ کے کندھوں پر ڈال دیا۔اور آپ غش کھا کر گر پڑے۔پھر اس کے بعد بَعْدَ ذَلِكَ عُرْيَانًا۔اطرافه: ۱٥۸۲، ۳۸۲۹ آپ کو کبھی ننگا نہ دیکھا گیا۔تشریح : جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے ، وہ روایت مذکورہ بالا سے واضح ہے۔فَمَا رُوِيَ بَعْدَ ذَلِكَ عُرْيَاناً اس کے بعد آپ کو کبھی بگا نہیں دیکھا گیا۔گویا آپ نگا ہونا مکر وہ سجھتے تھے۔جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے، حضرت الالمانيه جابر کی اس روایت سے جو کتاب الحج (باب ۴۲: فضل مكة و بنيانها۔روایت نمبر ۱۵۸۲) میں مندرج ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کعبہ کی ابتدائی تعمیر کے وقت ہوا تھا۔لَمَّا بُنِيَتِ الكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ الله وَعَبَّاسٌ يُنْقَلانِ الحِجَارَةَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِي الله اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ، فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ