صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 468
البخاري - جلد ا ۶۸ سوم باب : الصَّلَاةُ فِي الْجُبَّةِ الشَّامِيَّةِ شامی جبہ میں نماز پڑھنا - كتاب الصلوة وَقَالَ الْحَسَنُ فِي القِيَابِ يَنْسُجُها اور حسن نے ان کپڑوں کے متعلق فتویٰ دیا ہے جنہیں الْمَجُوْسِيُّ لَمْ يَرَ بِهَا بَأْسًا وَقَالَ مَعْمَرٌ مُجوَی بنتے ہیں۔انہوں نے ان میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔اور معمر کہتے تھے کہ میں نے زہری کو یمن کے رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ يَلْبَسُ مِنْ ثِيَابِ الْيَمَنِ وہ کپڑے بھی پہنے دیکھا جو پیشاب سے رنگے ہوئے مَا صُبِعَ بِالْبَوْلِ وَصَلَّى عَلِيَّ فِي تَوْبِ تھے۔اور حضرت علی نے نئے کپڑے میں جو کہ دھلا غَيْرِ مَقْصُورٍ۔ہوا نہیں تھا نماز پڑھی۔فَقَالَ يَا مُغِيْرَةُ خُذِ الْإِدَاوَةَ فَأَخَذْتُهَا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ٣٦٣ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ۳۶۳: ہم سے یحیی نے بیان کیا کہا: ابو معاویہ نے مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ ہمیں بتلایا۔انہوں نے اعمش سے ، اعمش نے مسلم مَّسْرُوْقٍ عَنْ مُّغِيْرَةَ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنتُ سے مسلم نے مسروق سے ،مسروق نے حضرت مغیرہ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ بن شعبہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔آپ نے فرمایا: مغیرہ! چھا گل لو۔میں نے وہ لے لی اور رسول اللہ لے چل پڑے۔اتنی دور گئے کہ مجھ سے پوشیدہ ہو گئے۔آپ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَقَضَى حَاجَتَهُ نے قضائے حاجت کی اور آپ شامی جبہ پہنے ہوئے وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ فَذَهَبَ لِيُخْرِجَ يَدَهُ تھے۔اس کی آستین سے اپنا ہاتھ نکالنے لگے تو وہ تنگ مِنْ كُمِّهَا فَضَاقَتْ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تھی اس لئے آپ نے اپنے ہاتھ کو اس کے نیچے سے أَسْفَلِهَا فَصَبَيْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوْنَهُ نکالا اور میں نے آپ پر پانی ڈالا۔اور آپ نے اسی لِلصَّلَاةِ وَمَسَحَ عَلَى حُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى۔طرح وضو کیا جس طرح کہ نماز کے لیے کیا کرتے اور آپ نے موزوں پر مسح کیا۔پھر آپ نے نماز پڑھی۔اطرافه : ۱۸۲ ، ٢۰۳، ۲۰٦، ۳۸۸، ۲۹۱۸، ٤٤۲۱، ۰۷۹۸، ٥۷۹۹۔آجکل بھی لوگ کوٹ پتلون پہن کر نماز پڑھنا مکروہ سمجھتے ہیں۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے زمانہ میں بھی تشریح: شامی جبہ وغیرہ میں نماز پڑھنا مکر وہ سمجھا جاتا تھا، بوجہ اس کے کہ یہ رومیوں کا لباس تھا۔روایت نمبر ۳۶۳ کا