صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 460
صحيح البخاری جلد ا ۴۶۰ ٨- كتاب الصلوة ہی اس کے لکھے ہوں۔حضرت سلمہ نے آپ سے پوچھا تھا کہ میں شکاری آدمی ہوں کیا میں صرف گرتے میں ہی نماز پڑھ لیا کروں؟ تو آپ نے ان کو مذکورہ بالا جواب دیا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۰۳) وَمَنْ صَلَّى فِى التَّوبِ الَّذِى يُجَامِعُ فِيه: قدیم زمانے میں جنسی کا کپڑا بھی نجس سمجھا جاتا تھا؛ اس لئے اس کا یہاں بھی ضمناً ذکر کر دیا گیا ہے۔عنوان باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو آپ نے حج اکبر میں کرایا تھا: ان لا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ۔(بخارى كتاب الصلوة باب ما يستر من العورة: ۳۶۹) امام موصوف نے اس روایت سے یہ استدلال کیا ہے کہ بیت اللہ کا طواف بھی ایک قسم کی عبادت ہے جب یہ عبادت ننگا ہو کر ادا نہیں کی جاسکتی تو نماز میں تو بدرجہ اولی ننگا ہونا جائز نہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۰۴) آج کل بھی ہندؤں میں بعض تیر تھوں کا طواف ننگے ہو کر کیا جاتا ہے۔امام بخاری نے خُذُوا زِينَتَكُم عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ کے ارشاد الہی کے مقابل پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح ممانعت پیش کی ہے۔ایک میں کپڑے پہنے کا حکم ہے اور دوسرے میں بنگا ہونے کی ممانعت ہے اس سے وُجُوبُ الصَّلوةِ فی القیابِ پر استدلال کیا ہے اور درمیانی حوالے بھی اسی مسئلہ کی تائید میں پیش کئے ہیں۔روایت نمبر ۱ ۳۵ کا تعلق باب سے واضح ہے۔جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ خُذُوا زِينَتَكُم۔۔۔کا حکم واجب نہیں بلکہ مستحب یعنی پسندیدہ ہے ، ان کے نزدیک اگر کپڑا نہ ہو تو وہ نماز پڑھ لے۔امام بخاری اس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد پیش کرتے ہیں کہ اس کی ساتھی اس کو پہننے کے لئے دے تا وہ نماز پڑھ سکے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھنے والی کو یہ نہیں کہا کہ کپڑا نہ ہو تو گھر بیٹھی رہے اور عید میں شریک نہ ہو۔یا یہ کہ وہ ننگے سر ہی چلی جائے۔بلکہ یہ فرمایا کہ کوئی دوسرا اس کو اپنا کپڑا اوڑھنے کے لئے دے۔یہ روایت پہلے کتاب الحيض باب شهود الحائض العیدین (نمبر ۳۲۴) میں گزر چکی ہے۔حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ : روایت مذکورہ بالا کے آخر میں محمد بن سیرین کا حوالہ اس غرض سے دیا ہے کہ ان لوگوں کی تردید کریں جو کہتے ہیں کہ محمد بن سیرین نے اپنی بہن سے یہ روایت سنی تھی ، نہ کہ حضرت ام عطیہ سے۔تیر تھے : ہندوؤں یا بدھوں وغیرہ کے عقیدہ میں مقدس عبادت گاہ کو کہتے ہیں۔عموما گنگا یا جمنا یا کسی مقدس دریا کا گھاٹ مراد ہوتا ہے۔( اردو لغت۔زیر لفظ تیرتھ )