صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 459 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 459

البخاري - جلد ا ۴۵۹ - كتاب الصلوة :٣٥١ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ ۳۵۱ : ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: یزید قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ بن ابراہیم نے ہمیں بتلایا۔یزید نے محمد بن سیرین) مُحَمَّدٍ عَنْ أُمّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أُمِرْنَا أَنْ سے، انہوں نے حضرت ام عطیہ سے روایت کی۔وہ کہتی تُخْرِجَ الْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيْدَيْنِ وَذَوَاتِ تھیں کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم حیض والیوں کو عیدوں الْخُدُوْرِ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِینَ کے روز نکالا کریں اور پردے والیوں کو بھی تا کہ وہ وَدَعْوَتَهُمْ وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ عَنْ مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعا میں شریک ہوں۔اور حیض والیاں اپنی نماز گاہ سے الگ رہتیں۔ایک عورت نے کہا: یارسول اللہ! ہم میں سے کسی ایک مُصَلَّاهُنَّ قَالَتِ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللهِ إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ قَالَ لِتُلْبِسْهَا کے پاس جلباب نہ ہو ( تو وہ کیا کرے؟) فرمایا: اس کو صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ اس کی ساتھن اپنے جلباب کا ایک حصہ اوڑھائے۔ابْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا: عمران نے ہم سے بیان کیا ابْنُ سِيْرِيْنَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ سَمِعْتُ کہ محمد بن سیرین نے ہمیں بتلایا کہ حضرت ام عطیہ نے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا۔ہم سے بیان کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے یہ سنا تھا۔اطرافة : ۳۲٤، ۹۷۱ ، ۹۷٤ ، ۹۸۰، ۹۸۱، ١٦٥۲۔تشریح: وُجُوبُ الصَّلوةِ فِى القِيَابِ : كتاب الصلاۃ کی ترتیب میں پہلے ستر العورۃ یعنی جنگ ڈھانچنے کے متعلق روایتیں بیان کی ہیں جیسا کہ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِد کے ارشاد سے ظاہر ہے کہ یہ حکم ایسا ہی ضروری ہے، جیسا أَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكَوةَ کا۔اور اس کی تعمیل بھی ویسے ہی ضروری ہے جیسے نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کی۔ننگ ڈھانپ کر نماز پڑھنے کے وجوب پر تو سب کو اتفاق ہے۔لیکن اس امر کے متعلق اختلاف ہے کہ کیا یہ حکم احکام طہارت کی طرح صحت نماز کے لئے شرط ہے جو اگر ہو تو نماز درست ہے ورنہ نہیں۔امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک فرض ہے اور امام مالک کے نزدیک سنت۔(البداية المجتهد كتاب الصلوة۔الباب الرابع من الجملة الثانية في الشروط الفصل الأول في ستر العورة) اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عنوانِ باب میں امام بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے کہ وہ واجب ہے۔وَمَنْ صَلَّى مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبِ وَاحِدٍ : دوسرا اختلاف لفظ زینت کی تشریح کے متعلق ہے۔آیا ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھناز بینت کے مفہوم کے منافی تو نہیں؟ عنوان باب میں حضرت سلمہ بن اکوع کا جو حوالہ دیا گیا ہے، اس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ زینت سے مراد مطلق لباس ہے جو بدن کا ننگ ڈھانپے۔خواہ کانٹوں سے