صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 458 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 458

صحيح البخاری جلد ا ۴۵۸ - كتاب الصلوة روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضر اور سفر کی نمازوں میں تمیز ہجرت کے بعد اُس وقت کی گئی کہ جب نماز چار رکعتیں فرض ہوئی۔ اس سے پہلے نماز میں حضر و سفر کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں تھا۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ قصر صلوٰۃ کا حکم چوتھی ہجری میں نازل ہوا تھا۔ ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں نماز دو دورکعتیں پڑھی جاتی تھی جبکہ بیت المقدس قبلہ تھا۔ یہودیوں میں روزانہ دو ہی نمازیں تھیں ، صبح اور شام (بائبل :۱- تواریخ ، باب ۲۳، آ بائل: ۱- تواریخ ، باب ۲۳، آیت (۱۳) ان کی نماز زیادہ تر قربانی اور دعاؤ کی نماز زیادہ تر قربانی اور دعاؤں پر مشتمل تھی۔ نہ ان میں اسلامی رکوع ہوتا اور نہ سجدہ کھڑے ہو کر اپنی عبادت ادا کرتے تھے اور درمیان میں کبھی کبھی سر اور سینہ خفیف ساجھکا لیتے تھے۔ مگر شارع اسلام نے ابتداء میں دورکعتیں بمعہ رکوع اور سجود نماز پڑھنے کا ارشاد فرمایا اور یہ مخصوص طریقہ نماز آپ کو اسی معراج میں بتلایا گیا تھا۔ امام بخاری کا مقصد اس روایت سے قصر صلوٰۃ کا مسئلہ بیان کرنا نہیں۔ اس کا ذکر ابواب القصر میں مفصل آئے گا۔ یہاں صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ پانچ نمازیں اور چار رکعتیں کب فرض ہوئیں۔ باب : وُجُوْبُ الصَّلَاةِ فِي الثَّيَابِ کپڑوں میں نماز پڑھنا ضروری ہے وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ مَسْجِدٍ (الأعراف :(٣٢) وَمَنْ صَلَّى مُلْتَحِفًا یعنی ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لیا کرو اور جس فِي ثَوْبِ وَاحِدٍ وَيُذْكَرُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نے ایک ہی کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھی اور الْأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت سلمہ بن اکوع سے روایتاً بیان کیا جاتا ہے کہ قَالَ يَزُرُّهُ وَلَوْ بِشَوْكَةِ ، فِي إِسْنَادِهِ نَظَر نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ ا رمایا کہ وہ اسے تکمہ لگا لیا کرے اگرچہ صلى الله عروسه کانٹے سے ہی ہو۔ اور اس کی سند میں قدرے شک ہے وَمَنْ صَلَّى فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيْهِ اور جو اُسی کپڑے میں نماز پڑھ لے جس میں اس نے مَالَمْ يَرَ فِيْهِ } أَذًى وَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ جماع کیا ہے بشرطیکہ (اس میں کے آلائش نہ دیکھے اور نبی أَنْ لَّا يَطُوْفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ۔ صلى الله عروسة نے حکم دیا کہ کوئی نگا بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ لے تکمہ: 1۔ بٹن، بوتام ، گھنڈی 2 کاج ( اردو لغت - زیر لفظ تکمہ ) ے لفظ فيه فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۶۰۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔